لاہور کے علاقے ٹاؤن شپ میں پولیس حراست کے دوران دو خواتین کی ہلاکت کےمعاملے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے،پولیس حراست میں ہلاک ہونے والی خواتین کی مبینہ واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی ہے۔
پولیس ذرائع کےمطابق دونوں خواتین نے ہلاکت سے چند گھنٹے قبل ٹاؤن شپ میں مبینہ طور پر واردات کی تھی۔ 15 کی کال پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس ٹیم نے دونوں خواتین کو حراست میں لیا تھا۔
پولیس ذرائع کےمطابق دونوں خواتین مبینہ نوسرباز اور متعددمقدمات میں ریکارڈ یافتہ تھیں۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق ان کے خلاف لاہور اور گجرات میں نوسربازی کے مقدمات بھی درج رہے ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہےکہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 176 کے تحت مجسٹریٹ نےانکوائری کا آغاز کردیا ہے، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور کےحکم پر انکوائری رپورٹ ایک ماہ کے اندرجمع کروائی جائے گی۔
پولیس حکام کے مطابق انکوائری اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ میں اگر پولیس تشدد ثابت ہوا تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ابتدائی میڈیکل رپورٹ کےمطابق دونوں خواتین کی موت کو بظاہرطبعی قراردیا گیا ہے،تاہم موت کی اصل وجہ اور تحقیقات اور رپورٹس کی روشنی میں ہوگا۔
دوسری جانب خواتین کی لاشیں آبائی گاؤں پاکپتن منتقل کردی گئیں، ورثا نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے ایسےسلوک کیاجیسے میتیں کسی دہشت گردکی ہوں،خودقبریں کھودیں،خودہی قبروں میں اتارا، اہلکار سلیپس بھی دوسری قبروں سے اٹھا کر ڈالتے رہے۔
