شوگر ملز مالکان اضافی چینی برآمد کرنے کے لیے متحرک ہو گئے ہیں جس کیلئے وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر حسین کو دوبارہ خط لکھ دیا۔ 31جولائی تک 31لاکھ میٹرک ٹن چینی کے اسٹاک موجود ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے اور حکومت سے فوری طور پر 6لاکھ 33ہزار ٹن سرپلس چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگ لی۔
شوگر ملز مالکان کے خط کے مطابق 31جولائی 2026تک ملک میں 31لاکھ میٹرک ٹن چینی کے اسٹاک موجود ہیں جبکہ ملک میں ماہانہ اوسط کھپت 5لاکھ 64ہزار 196میٹرک ٹن ہے۔ شوگر ملز مالکان کے مطابق اگلے کرشنگ سیزن کے آغاز پر 11لاکھ 97ہزار میٹرک ٹن فالتو چینی کا ذخیرہ موجود ہوگا۔ آئندہ کرشنگ سیزن میں دوبارہ گنے کی بمپر فصل متوقع ہے، جس کے باعث ملکی ضرورت سے زائد 80لاکھ میٹرک ٹن چینی پیدا ہونے کا امکان ہے۔
خط میں کہا گیا کہ شوگر انڈسٹری کو چینی کے بڑے ذخائر رکھنے کے چیلنج کا سامنا ہے، فروخت نہ ہونے والے اسٹاک کے باعث ملز کو فنڈز کی شدید کمی کا سامنا ہے، اضافی ذخیرہ کرشنگ سیزن شروع ہونے کے ایک ماہ کے اندر برآمد کیا جائے۔
