مغربی کنارے کے گاؤں قصرا میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز اور یہودی آبادکاروں کے درمیان جھڑپیں

مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں قصرا میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز اور آبادکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔یہ جھڑپیں اس وقت ہوئیں جب فورسز نے فلسطینی گھروں کے داخلی راستے پر قائم آبادکاروں کی چوکی خالی کرانے کی کوشش کی۔ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ چوکی کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ فوج کے مطابق بارڈر پولیس کے اہلکار علاقے میں موجود ہیں۔

اسرائیلی فوج کے مطابق آبادکاروں نے قصرا میں فلسطینی خاندان کے گھروں کے باہر ڈھانچے قائم کیے تھے۔یہ چوکی مغربی کنارے کے علاقے B میں قائم کی گئی تھی۔فوج نے علاقے کو بند فوجی زون قرار دینے کا حکم بھی جاری کیا تھا۔اسرائیلی حکام کے مطابق بارڈر پولیس نے چوکی خالی کرانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق چوکی خالی کرانے کی کارروائی کی اطلاع پہلے ہی میڈیا تک پہنچ گئی تھی۔اس کے بعد درجنوں آبادکار موقع پر پہنچ گئے۔اسرائیلی سکیورٹی ذرائع کے مطابق آبادکاروں نے فورسز کے خلاف ہنگامہ آرائی شروع کر دی۔صورتحال کے دوران فلسطینی گھروں کے داخلی راستے بھی پتھروں سے بند کیے گئے۔مقامی ذرائع کے مطابق علاقے میں جھڑپیں کچھ دیر بعد بھی جاری رہیں۔

رپورٹس کے مطابق آبادکار اتوار سے قصرا میں ایک فلسطینی خاندان کے گھروں کے اطراف موجود ہیں۔اس دوران خاندان کے افراد کی آمدورفت متاثر ہوئی۔رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ علاقے کی بجلی کی لائنیں کاٹ دی گئی ہیں۔

اسرائیلی فوج کے مطابق سینٹرل کمانڈ کے سربراہ میجر جنرل ایوی بلوتھ بھی علاقے میں پہنچے۔ ویسٹ بینک ڈویژن کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل کوبی ہیلر نے بھی علاقے کا دورہ کیا۔ بارڈر پولیس کے ویسٹ بینک ڈویژن کے کمانڈر اسسٹنٹ کمشنر نیسو گوئٹا بھی ان کے ہمراہ تھے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق حکام نے فلسطینی خاندان کے خلاف اسرائیلی شہریوں کی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں مزید اقدامات کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے