پشاور: ڈاکٹر صادق خٹک کو تمغہ امتیاز دینے کا فیصلہ، جعلی ڈگری کا معاملہ ایک بار پھر زیرِ بحث

یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد صادق خٹک کی تقرری اور مبینہ جعلی پوسٹ ڈاکٹریٹ سرٹیفکیٹ کا معاملہ ایک بار پھر زیرِ بحث آ گیا ہے۔ ایک جانب صوبائی حکومت کی سفارش پر ڈاکٹر محمد صادق خٹک کو تمغہ امتیاز دینے کی منظوری دی گئی ہے جبکہ دوسری جانب ان کی اہلیت اور مبینہ جعلی ڈگری سے متعلق انکوائری کئی ماہ سے محکمۂ اعلیٰ تعلیم میں زیرِ التوا ہے۔

دستاویزات کے مطابق وائس چانسلر کی تقرری کے لیے 5 سالہ انتظامی تجربہ یا پوسٹ ڈاکٹریٹ تجربہ لازمی قرار دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر محمد صادق خٹک نے 5 سالہ انتظامی تجربے کے بجائے ایک سالہ پوسٹ ڈاکٹریٹ کا تجربہ پیش کیا۔

دستاویز کے مطابق پیش کردہ پوسٹ ڈاکٹریٹ سرٹیفکیٹ یکم اپریل 2012 سے 30 مارچ 2013 تک کی مدت پر مشتمل ہے، جبکہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر محمد صادق خٹک نے 17 اگست 2012 کو یو ای ٹی پشاور میں دوبارہ ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں۔

دستاویزات کے مطابق یو ای ٹی پشاور نے 20 ستمبر 2012 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے ڈاکٹر محمد صادق خٹک کی باقی ماندہ اسٹڈی لیو منسوخ کی جبکہ اسی نوٹیفکیشن کے تحت انہیں پوسٹ ڈاکٹریٹ الاؤنس بھی جاری کیا گیا، پوسٹ ڈاکٹریٹ کی مدت اور یو ای ٹی پشاور میں سرکاری ملازمت کے عرصے میں اوورلیپ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ دوسری جانب ڈاکٹر محمد صادق خٹک کی مبینہ جعلی ڈگری سے متعلق انکوائری کئی ماہ سے محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبر پختونخوا میں زیرِ التوا ہے۔ انکوائری میں مبینہ تاخیر کے معاملے پر متاثرہ پروفیسر نے عدالت سے بھی رجوع کر رکھا ہے۔

ایک جانب ڈاکٹر محمد صادق خٹک کو سول ایوارڈ، تمغہ امتیاز دینے کی منظوری دی گئی ہے جبکہ دوسری جانب ان کی تقرری، اہلیت اور مبینہ جعلی پوسٹ ڈاکٹریٹ سرٹیفکیٹ سے متعلق سوالات اور انکوائری تاحال موجود ہیں۔ معاملے پر متعلقہ وائس چانسلر سے متعدد بار مؤقف لینے کی کوشش کی گئی مگر انکی جانب سے کوئی جواب نہ مل سکا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے