ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ حالیہ مفاہمتی یادداشت ایران نے طاقت اور وقار کے ساتھ طے کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اس عمل میں دشمنوں کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکا کے ساتھ مفاہمت کے دوران ایران نے اپنی قومی خودمختاری اور اصولوں کو مدنظر رکھا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت کی تیاری میں رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی جانب سے وضع کردہ اصولوں کو سامنے رکھا گیا۔ ان کے مطابق یہ دستاویز ماہرین کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کے بعد تیار ہوئی۔ ایران نے مذاکرات میں اپنے مؤقف اور قومی مفادات کا دفاع کیا۔
پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کیا تھا۔ فریقین نے 17 جون 2026 کو اسلام آباد میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کا مقصد جنگ کے خاتمے اور مستقل امن کی جانب پیش رفت کرنا تھا۔ اس کے تحت فریقین کو حتمی معاہدے کے لیے 60 روز کی مدت دی گئی تھی۔ تازہ رپورٹس کے مطابق 60 روزہ مدت ختم ہونے کے باوجود دونوں ممالک نے جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کیا ہے۔
