پاکستان میں بجٹ شفافیت میں نمایاں بہتری سامنے آئی ہے جبکہ عالمی اداروں نے بھی حکومتی اصلاحات اور شفاف مالیاتی نظام کو سراہا ہے۔
ماہرین نے ادارہ جاتی اصلاحات، بجٹ سازی میں عوامی شرکت اور معلومات تک رسائی میں اضافہ اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق پاکستان میں بجٹ کی شفافیت میں صرف 2 سال کے دوران 50 فیصد تک بہتری آئی ہے۔ بجٹ شفافیت، عوام تک معلومات کی رسائی اور جوابدہی میں بہتری کی معتبر عالمی اداروں نے بھی تصدیق کی ہے۔
انٹرنیشنل بجٹ پارٹنرشپ کے اوپن بجٹ سروے 2025 کے مطابق پاکستان میں بجٹ شفافیت کا اسکور 2023 میں 30 فیصد تھا، جو 2025 میں بڑھ کر 45 فیصد ہوگیا ہے۔
خرم شہزاد کے مطابق پاکستان کا شفاف بجٹ کا اسکور چین، بھارت، سری لنکا اور بنگلا دیش جیسے اہم علاقائی ممالک سے بھی بہتر ہے۔ ایگزیکٹو بجٹ تجاویز، منظور شدہ بجٹ، سالانہ رپورٹ اور عوامی شرکت میں شفافیت ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں بجٹ میں عوامی شراکت کا اسکور 22 ہوچکا ہے، جو عالمی اوسط 17 اور ایشیا پیسیفک کی اوسط 18 سے کہیں زیادہ ہے۔
خرم شہزاد کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ نے بھی پاکستان میں بجٹ تک عوام کی رسائی، مالیاتی نظام سے متعلق شفاف معلومات اور مضبوط قانونی فریم ورک کو سراہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ اور مالی نظم و نسق میں شفافیت سرمایہ کاروں کے اعتماد اور پاکستان کی ادارہ جاتی ساکھ کی بہتری کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔
