ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر

اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے کیس مقرر کرنے کی کازلسٹ جاری کر دی، جسٹس اعظم خان ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر سماعت کریں گے۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو متنازع ٹویٹس کیس میں ٹرائل کورٹ سے سزا ہوئی تھی، سزا معطلی کی درخواستیں جنوری میں دائر کی گئی تھیں۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 24 جنوری کو اسلام آباد کی سیشن عدالت نے ریاستی اداروں کے خلاف مواد پھیلانے اور سوشل میڈیا پر کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو فروغ دینے کے الزامات میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے تحت 17، 17 سال قید اور مجموعی طور پر 3 کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی، دونوں کو 23 جنوری کو گرفتار کیا گیا تھا اور وہ تاحال اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

گزشتہ روز سپریم کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں پر درخواست گزاروں کے وکیل سے مقدمات میں اب تک ہونے والی پیشرفت کی تفصیلات طلب کر لی تھیں۔

سپریم کورٹ میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی، عدالت نے درخواست گزاروں کے وکیل فیصل صدیقی سے مقدمے کی موجودہ صورتحال اور اب تک ہونے والی عدالتی کارروائی سے متعلق آگاہ کرنے کا حکم دیا۔

دوسری جانب اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے ایمان مزاری کی صحت اور حراست کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عدالتوں سے سزاؤں کی معطلی کی درخواستوں پر جلد فیصلہ کرنے اور جیل حکام سے انہیں ضروری طبی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے