اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف سے شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے ملاقات کی، وزیر اعظم نے شام کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
اعلامیےکے مطابق ملاقات میں وزیراعظم نے پاکستان اور شام کے درمیان تاریخی اور گہرے تعلقات کا تذکرہ کیا، وزیراعظم نے دو طرفہ سیاسی، دفاعی، تجارت، سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں عملی تعاون میں بدلنےکی ضرورت پر زور دیا۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست پروازوں کی بحالی سے عوامی روابط میں اضافہ ہوگا، اس اقدام سے بڑی تعداد میں پاکستان سے شام جانےوالے زائرین کو بھی سہولت ملےگی۔
وزیراعظم نے شام کے اتحاد، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئےکہا کہ پاکستان گولان کی پہاڑیوں کے معاملے پر شام کے مؤقف کی بھرپور حمایت کرےگا۔
اعلامیےکے مطابق وزیراعظم نے صدر احمد الشرع کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی۔
شامی وزیر خارجہ نے صدر احمد الشرع کی جانب سے وزیراعظم کےلیے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا، شامی وزیر خارجہ نے وزیراعظم کو شام کی سیاسی صورتحال اور تعمیرِ نو کی کوششوں سے آگاہ کیا، شامی وزیر خارجہ نے گزشتہ برسوں کے دوران شام کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت پر اظہار تشکر کیا۔
شامی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ شام کی حکومت پاکستان سے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں گہری دلچسپی رکھتی ہے۔
شامی وزیرخارجہ کی اسحاق ڈار سے ملاقات، فلسطین، گولان کی پہاڑیوں پر تبادلہ خیال

اس سے قبل نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے شامی وزیرخارجہ اسعد حسن الشیبانی نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی جس میں دونوں ممالک نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات میں فلسطین، گولان کی پہاڑیوں اور افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پاکستان اور شام کے وزرائے خارجہ کی جنوبی ایشیا اورمشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی بات چیت ہوئی۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان شام کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی حمایت جاری رکھےگا۔
شامی وزیر خارجہ نے مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔ شامی وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا اور کہا کہ امریکا ایران تناؤ میں کمی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔
پاکستان اور شام کے تعلقات تاریخی ہیں نئی سطح پر لے جانا چاہتے ہیں، شامی وزیر خارجہ
ملاقاتوں کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شامی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم ملک کی تعمیر نو میں مصروف ہیں، پاکستان اور شام کے تعلقات تاریخی ہیں نئی سطح پر لے جانا چاہتے ہیں، پاکستان اور شام کی حکومتیں تعلقات کا فروغ چاہتی ہیں، ہم عوام سے عوام کے تعلقات کا دروازہ کھول رہے ہیں۔ہم نے پاکستانی حکومت کی طرف سے گرمجوشی دیکھی، پاکستان کے وزیراعظم، نائب وزیراعظم اور چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہمارے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔
شامی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان سے پاکستان پرکسی بھی دہشت گرد حملےکی مذمت کرتے ہیں، ہم افغانستان کی حکومت کو کہتے ہیں کہ دہشت گردی کو روکے۔
شامی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دورے میں ایران کے ساتھ مصالحت کی پیشکش نہیں کی گئی، اگر مستقبل میں پاکستان نے کوئی کردار ادا کرنا ہو تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، شام لبنان کے استحکام کی حمایت کرتا ہے، ہم ایران کو کہتے ہیں وہ لبنان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔
