بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کا معاملہ،پی ٹی آئی کی جانب سے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر

بانی پی ٹی آئی کی جیل سے اسپتال منتقلی کے معاملے پر پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کردی۔

درخواست میں بانی پی ٹی آئی کو عدالتی احکامات کے باوجود اسپتال منتقل نہ کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی کی استدعا کی گئی ہے،جواب دہندگان کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دے کر قانون کے مطابق سزا دینے کی استدعا کی گئی،جبکہ بانی پی ٹی آئی کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل کرنے کی  درخواست کی گئی۔

بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے سے متعلق پمز انتظامیہ کا اعلامیہ جاری

اس سےقبل بانی پی ٹی آئی کےطبی معائنے سےمتعلق پمز انتظامیہ نے اعلامیہ جاری کیا،جس میں کہا گیاکہ مریض کی رازداری اور سپریم کورٹ کی ہدایات کا مکمل احترام کیا جائے گا۔

اعلامیے کےمطابق طبی رپورٹ کےخفیہ مندرجات ظاہر نہیں کیےجائیں گے،بانی پی ٹی آئی کو 20 اور 21 کی درمیانی شب پمزاسپتال لایاگیا،جہاں شفا انٹرنیشنل اسپتال کے 2 ماہر ڈاکٹروں نے آنکھوں کےمعائنے میں حصہ لیا۔

اعلامیےمیں کہاگیا ہےکہ دیگر طبی معائنے پمز کےمتعلقہ ماہرین نے کیے،آنکھوں کےمعائنے سےحاصل طبی رائےکومجموعی طبی جائزے میں شامل کرلیاگیا۔

پمز انتظامیہ کےمطابق میڈیکل بورڈ نےتمام طبی نتائج یکجا کرکےفٹنس رپورٹ مرتب کرلی ہے،تاہم رپورٹ کےخفیہ مندرجات ظاہر نہیں کیے جائیں گے۔

عمران خان کی شفاہسپتال منتقلی کا معاملہ، حکومت نے نظر ثانی اپیل دائر کر دی

گزشتہ روز حکومت نےسپریم کورت کے عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کےفیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر کر دی،درخواست میں موقف اختیارکیاگیا ہےکہ ایک قیدی کو پرائیویٹ ہسپتال منتقل کرناکریمنل جسٹس سسٹم کی اسکیم کوڈسٹرب کرےگا،دیگر قیدی بھی جیل رولز کےخلاف اپنے لیے ایسا ہی برتاؤ مانگیں گے،سپریم کورٹ نےحکم واپس نہ لیا توفلڈگیٹ کھل جائےگا،سارے قیدی مرضی کے ہسپتال والا خصوصی سلوک مانگیں گے۔

درخواست میں موقف اختیارکیاگیا کہ اس کیس میں ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر بھی فریق تھا،  سپریم کورٹ نےکارروائی کے دوران اس بات کا نوٹس نہیں لیا

درخواست کےمطابق سپریم کورٹ کافیصلہ ریکارڈمیں موجود واضح قانونی غلطیوں پرمبنی ہے،مجرم کو پرائیویٹ ہسپتال منتقل کرنا پاکستان پرزن رولز 1978 کے برخلاف ہے،جیل قوانین میں کسی قیدی کو پرائیویٹ ہسپتال میں داخل کرنےکاکوئی تصورنہیں،قانون کے تحت قیدیوں کا علاج جیل،سول یا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال میں ہو سکتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے