کراچی: نجی اسپتال میں زچہ بچہ کیس کا ڈراپ سین،خاتون نے بے اولاد ہونےکےطعنےکے خوف سےخودکو حاملہ ظاہرکیا

کراچی کے علاقے ناظم آبادکے نجی اسپتال میں زچہ بچہ کیس کا ڈراپ سین ہوگیا، خاتون کا حاملہ ہونا ثابت نہ ہوسکا تاہم ڈاکٹروں کی سنگین غفلت بھی سامنے آئی ہے۔

ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ڈاکٹر محمد عمران خان کے مطابق ہمدرد اسپتال ناظم آباد نمبر3 میں خاتون کے مبینہ حمل سے متعلق پیش آنے والے واقعےکی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ واقعےکے بعدکرائےگئے طبی معائنے اور  ایم ایل او رپورٹ میں خاتون کا حاملہ ہونا ثابت نہیں ہوا۔

ابتدائی طور  پر خاتون زوبیہ زوجہ راشدکو  زچگی کے سلسلے میں اسپتال لایا گیا تھا جہاں آپریشن کے دوران اسپتال عملےکو معلوم ہوا کہ خاتون حاملہ نہیں ہے، جس کے بعد خاتون کے اہلخانہ کی جانب سے اسپتال میں توڑ پھوڑ  اور  احتجاج کیا گیا تھا۔

تحقیقات کے دوران سامنے آیا کہ خاتون نے سماجی  اور  خاندانی دباؤ کے باعث خودکو حاملہ ظاہرکیا تھا۔

خاتون کو آپریشن تھیٹر  منتقل کرنے سے قبل اسپتال عملےکی جانب سے غفلت کا مظاہرہ کیا گیا اور خاتون کا کسی قسم کا باقاعدہ طبی معائنہ نہیں کیا گیا، صرف موبائل فون پر موجود الٹراساؤنڈ رپورٹ دیکھی گئی، جو پولیس تحقیقات کے مطابق مشتبہ اور غیر مستند پائی گئی۔

واقعےکے بعد پولیس کی جانب سے خاتون زوبیہ زوجہ راشدکو ایم ایل او عباسی شہید اسپتال بھجوایا گیا، جہاں طبی معائنےکے بعد جاری ہونے والی میڈیکل رپورٹ میں خاتون کا حمل ثابت نہیں ہوا۔

خاتون کے شوہر راشد کی جانب سے اسپتال عملے کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے تھانہ ناظم آباد میں درخواست وصول کرلی گئی ہے، جس پر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائےگی۔

ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ڈاکٹر محمد عمران خان کی ہدایت پر واقعےکی تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

میڈیکل کمیشن کی حتمی رپورٹ موصول ہونےکے بعد اس کی روشنی میں ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق مزیدکارروائی عمل میں لائی جائےگی۔

پولیس نے واقعے سے متعلق دستیاب شواہد، طبی رپورٹس، سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگر متعلقہ ریکارڈ کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے