چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ سینیٹر محسن نقوی نے قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو میں محسن نقوی نے کہا کہ وہ تنقید سے نہیں گھبراتے۔ انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم کی خراب کارکردگی کا انہیں بہت دکھ ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ انگلینڈ میں جو کچھ کیا گیا، وہ ضروری تھا۔ انہوں نے کہا کہ کارکردگی کے علاوہ بھی کچھ معاملات ہیں۔ ان کے مطابق پی سی بی ان معاملات کا جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کرکٹ کے علاوہ کسی دوسرے معاملے پر بات کرنا مناسب نہیں۔
چیئرمین پی سی بی نے تنقید پر بھی واضح مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ تنقید سے نہ پہلے گھبرائے اور نہ اب گھبراتے ہیں۔ محسن نقوی کے مطابق بعض لوگوں کی تنقید سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ خود کچھ نہیں کر سکے، ان کی تنقید کو وہ اہمیت نہیں دیتے۔
محسن نقوی نے سابق قومی کرکٹر وسیم اکرم کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وسیم اکرم جیسا بڑا کھلاڑی کوئی بات کرے گا تو وہ اسے سنجیدگی سے لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ وہ کرکٹ کو وقت نہیں دیتے، انہیں حقیقت کا علم نہیں۔
چیئرمین پی سی بی نے ٹیسٹ کرکٹ میں قومی ٹیم کی کارکردگی کو ناقص قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی کارکردگی بہت خراب ہے۔ ان کے مطابق ٹیم کی بہتری کے لیے معاملات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
محسن نقوی نے قومی کھلاڑیوں کے ساتھ اعتماد برقرار رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کا موقع ملنا چاہیے۔ چیئرمین پی سی بی نے واضح کیا کہ وہ کھلاڑیوں کی تذلیل برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تنقید اپنی جگہ، لیکن کھلاڑیوں کا احترام بھی ضروری ہے۔
