پاکستان کے تجارتی خسارے میں 2 ماہ میں 18.11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تجارتی خسارہ 6 ارب ڈالر سے بڑھ کر 7.11 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
ادارہ شماریات کے مطابق جولائی تا اگست گزشتہ سال کے مقابلے تجارتی خسارے میں ایک ارب ڈالر سے زائد اضافہ دیکھا گیا، دو ماہ میں گڈز برآمدات میں 7 فیصد، درآمدات میں 13 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق 5.45 ارب ڈالر برآمدات کے مقابلے درآمدات 12.57 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ جولائی کے مقابلے اگست میں برآمدات میں 15 فیصد کمی آئی، ماہانہ برآمدات کا حجم 2.95 ارب ڈالر سے کم ہو کر 2.50 ارب ڈالر پر آگیا۔
زیرجائزہ عرصے کے دوران ماہانہ تجارتی خسارے میں 19.69 فیصد کمی، حجم 3.17 ارب ڈالر رہا، اگست 2025 کے مقابلے گزشتہ ماہ برآمدات میں 3.81 فیصد اضافہ ہوا، اس دوران درآمدات 7.38 فیصد اضافے سے 5.67 ارب ڈالر رہیں۔
واضح رہے کہ ایک مقررہ مدت کے دوران جب کسی ملک کی درآمدات اس کی برآمدات سے زیادہ ہوجاتی ہیں تو یہ تجارتی خسارہ کہلاتا ہے۔
تجارتی خسارہ اس وقت ہوتا ہے جب بین الاقوامی ٹرانزیکشن اکاؤنٹ میں منفی بیلنس ہو۔ ادائیگیوں کا توازن ملک میں رہائش پذیر اور بیرون ملک رہنے والوں کے درمیان، جہاں ملکیت میں تبدیلی واقع ہوتی ہے، تمام اقتصادی لین دین کو ریکارڈ کرتا ہے۔
تجارتی خسارہ طویل مدت میں کافی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ تجارتی خسارے کا سب سے واضح نقصان یہ ہے کہ ملک اپنی پیداوار سے زیادہ اشیا اور خدمات استعمال کرتا ہے۔
ٹریڈ فیسلیٹیشن بورڈ کے قیام کی منظوری
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت تجارت میں سہولیات کی فراہمی سے متعلق اہم اجلاس میں ٹریڈ فیسلیٹیشن بورڈ کے قیام کی منظوری دے دی گئی۔ وزیراعظم خود بورڈ کی صدارت کریں گے۔
بورڈ تجارت کی مکمل سپلائی چین میں بہتری، سرحد پار تجارت کے نان ٹیرف امور اور تجارت کے فروغ کیلئے روڈ میپ و مانیٹرنگ حکمت عملی ترتیب دے گا۔ مجوزہ بورڈ تجارت کی مکمل سپلائی چین میں بہتری اور سرحد پار تجارت سے متعلق تمام نان ٹیرف امور پر فیصلے کرے گا۔
بورڈ تجارت کے فروغ کیلئے روڈ میپ، ٹریڈ فسیلیٹیشن انڈیکس اور مانیٹرنگ کے حوالے سے حکمت عملی بھی ترتیب دے گا۔وزیراعظم نے بندرگاہوں کی استعداد کار میں بہتری کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام اور اس مقصد کیلئے ورکنگ گروپس بنانے کی ہدایت کی۔
ورکنگ گروپس بندرگاہوں کی استعداد بہتر بنانے، متعلقہ محکموں میں ہم آہنگی، ریگولیٹری فریم ورک کی تعمیل اور پری ارائیول کلیئرنس سمیت مختلف امور پر کام کریں گے۔
وزیراعظم نے درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کیلئے بندرگاہوں پر مال کی ترسیل، کلیئرنس اور دیگر امور آسان بنانے اور زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔
