اقوام متحدہ میں دنیا کے زیادہ درست نقشے کی قرارداد منظور، امریکا کی مخالفت

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دنیا کے زیادہ درست نقشے سے متعلق قرارداد منظور کر لی ہے۔ نئے نقشے میں براعظموں اور ممالک کا رقبہ زیادہ درست انداز میں دکھایا جائے گا۔ عرب میڈیا کے مطابق قرارداد کے حق میں 164 ممالک نے ووٹ دیا۔ ایک ملک نے قرارداد کی مخالفت کی۔
چھ ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ یہ مہم افریقی ممالک اور بہاماس کی جانب سے آگے بڑھائی گئی۔
ٹوگو نے اس مہم میں اہم کردار ادا کیا۔

موجودہ عالمی نقشہ 16ویں صدی میں تیار کیا گیا تھا۔ اسے فلیمش ماہرِ نقشہ سازی گیرارڈوس مرکیٹر نے تیار کیا تھا۔ مرکیٹر نقشے میں قطبین کے قریب علاقوں کا حجم بڑھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس کی وجہ نقشے میں زمین کو ایک خاص انداز میں پیش کرنا ہے۔ مثال کے طور پر گرین لینڈ اور افریقا تقریباً ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں۔ حقیقت میں افریقا کا رقبہ گرین لینڈ سے تقریباً 14 گنا زیادہ ہے۔ نقاد اس نقشے پر طویل عرصے سے اعتراض کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس میں یورپ اور مغربی علاقوں کو غیر متناسب طور پر نمایاں کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس انداز نے نوآبادیاتی دور کے تصورات کو تقویت دی۔

عرب میڈیا کے مطابق نئے نقشے کے لیے ایکول ارتھ نقشے کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ یہ نقشہ براعظموں کے حقیقی رقبے کو زیادہ درست انداز میں ظاہر کرتا ہے۔ اس مہم کا مقصد افریقا کو غیر معمولی طور پر بڑا دکھانا نہیں ہے۔ منتظمین کے مطابق مقصد درست جغرافیائی تناسب کو اجاگر کرنا ہے۔ ٹوگو کے وزیر خارجہ رابرٹ ڈوسی نے بھی اس مؤقف کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق منصفانہ دنیا کا آغاز منصفانہ نقشے سے ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا نے قرارداد کی مخالفت کی۔ امریکی مؤقف ہے کہ یہ اقدام ایک نظریاتی ایجنڈے کو فروغ دیتا ہے۔ امریکا کے مطابق دنیا کو حقیقی عالمی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ ان مسائل میں عالمی امن، خوش حالی اور بین الاقوامی تعلقات شامل ہیں۔ تاہم قرارداد قانونی طور پر پابند نہیں ہے۔ یہ سمندری اور فضائی رہنمائی کے لیے مرکیٹر نقشے کے استعمال کو بھی ختم نہیں کرتی۔ ان شعبوں میں مرکیٹر نقشہ اب بھی عملی طور پر موزوں سمجھا جاتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے