ایران نے آبنائے ہرمز میں نئی واٹر ویز اتھارٹی قائم کر دی، بحری اجازت لازمی قرار

Efforts to open the Strait of Hormuz, military conference of more than 30 countries begins in London

ایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق ایک نئی واٹر ویز اتھارٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے اس اہم بحری گزرگاہ سے گزرنے والے تمام جہازوں کے لیے پیشگی اجازت کو لازمی قرار دے دیا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق اب آبنائے ہرمز کے ان علاقوں سے گزرنے والے بحری جہازوں کو متعلقہ اتھارٹی سے رابطہ کرنا اور باقاعدہ اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا۔ اس اقدام کو بحری سلامتی اور ٹریفک کنٹرول کے نظام کو بہتر بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ایران نے مختلف کنٹرول زونز کی نشاندہی بھی کی ہے، جن میں جزیرہ قشم سے لے کر متحدہ عرب امارات کے ام القوین تک کا علاقہ اور جبل مبارک سے فجیرہ کے جنوبی حصے تک کا بحری خطہ شامل بتایا گیا ہے۔

ایرانی اتھارٹی کی جانب سے جاری نقشے میں ان بحری راستوں کی بھی وضاحت کی گئی ہے جن کے ذریعے گزرنے والے جہازوں کے لیے ایرانی لائسنس اور کوآرڈینیشن کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خطے میں بحری نقل و حرکت کو منظم کرنے اور سیکیورٹی خدشات کو کم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی شاہراہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس فیصلے سے خلیجی خطے میں کشیدگی اور عالمی توانائی مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے