برطانیہ کا مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں سے اشیا کی درآمد پر پابندی کا اعلان

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ ان بستیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرے گا۔ برطانوی حکومت نے بستیوں کی تعمیر اور توسیع میں مدد دینے والی کمپنیوں کے خلاف بھی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ اس میں تعمیرات، انفراسٹرکچر، مالی معاونت اور رئیل اسٹیٹ سے متعلق خدمات شامل ہیں۔ برطانیہ کے مطابق اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں۔

ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ برطانیہ دو ریاستی حل کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع اس حل کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ برطانوی حکومت نے خاص طور پر E1 منصوبے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ حکومت کے مطابق یہ منصوبہ مستقبل میں فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو متاثر کر سکتا ہے۔

ایڈ ملی بینڈ نے مغربی کنارے کے بعض علاقوں میں فلسطینیوں کی صورتحال کو شدید قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت ان علاقوں میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور تشدد پر تشویش رکھتی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی حکومت نے بعض مواقع پر آبادکاروں کے اقدامات پر مناسب کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے ان اقدامات کو فلسطینیوں کی نسلی صفائی کے تناظر میں بھی بیان کیا۔

برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ برطانیہ پہلے ہی اسرائیل کو جاری 30 سے زائد اسلحہ لائسنس معطل کر چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے اسلحے کی نئی منظوری نہیں دی جائے گی جو مغربی کنارے پر قبضے میں براہ راست معاونت کرے۔ موجودہ معطلی غزہ میں اسرائیلی فوج کے استعمال سے متعلق اسلحہ لائسنس پر بھی برقرار ہے۔

برطانوی حکومت کے مطابق نئی پابندی کا ہدف اسرائیل کی مجموعی تجارت نہیں ہے۔ پابندی کا تعلق خاص طور پر مقبوضہ مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں سے ہے۔ حکومت نے واضح کیا کہ اسرائیل کے ساتھ دیگر تجارتی تعلقات جاری رہیں گے۔ ایڈ ملی بینڈ نے بھی دو ریاستی حل کی حمایت کو برطانیہ کی پالیسی کا اہم حصہ قرار دیا۔

 

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے