ایران کے پاسداران انقلاب نے ایک نئے محدود بحری علاقے کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق یہ علاقہ چابہار سے خلیج عمان تک قائم کیا جائے گا۔ اس کی حدود بحیرہ عرب کے بعض حصوں تک بھی پھیلیں گی۔ تاہم محدود بحری علاقے کی درست حدود ابھی جاری نہیں کی گئیں۔ ایرانی حکام بعد میں اس کی جغرافیائی حدود اور نقاط جاری کریں گے۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان کے مطابق جہازوں کو علاقے سے گزرنے سے پہلے ایران سے رابطہ کرنا ہوگا۔ ترجمان نے کہا کہ بغیر رابطے کے گزرنے والے جہازوں کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم ممکنہ پابندیوں کی نوعیت واضح نہیں کی گئی۔
یہ اعلان ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔ خطے میں سمندری آمدورفت کو پہلے ہی مختلف خطرات کا سامنا ہے۔ آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں بحری سرگرمیاں خاص توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ ایران کی جانب سے بحری نگرانی اور پابندیوں سے متعلق اقدامات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اس سے قبل ایرانی عہدیدار محسن رضائی نے بھی ایک محدود بحری زون کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کے باہر یہ زون قائم کیا جائے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد بحری نقل و حرکت کو منظم کرنا ہے۔ نئے اعلان میں چابہار اور بحیرہ عرب کے بعض حصوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔چابہار ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں واقع اہم بندرگاہ ہے۔
