سینیٹ قائمہ کمیٹی نے غیر معیاری کاسمیٹکس بنانے اور درآمد کرنے پر قید اور جرمانوں کے بل کی منظوری دیدی

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اور ٹیکنالوجی نے غیر معیاری کاسمیٹکس بنانے اور درآمد کرنے پر قید اور جرمانوں کے بل کی منظوری دے دی۔ تعلیمی اداروں میں انرجی ڈرنکس کے استعمال پر پابندی کا بل بھی منظور کرلیا گیا۔

کامل علی آغا کی زیر صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی میں جنرل کاسمیٹکس بل دو ہزار چھبیس پر غور کیا گیا۔ وفاقی وزیر رضا حیات ہراج نے بتایا کہ ملک میں کاسمیٹکس پر کوئی حکومتی کنٹرول نہیں۔ بیوٹی کریم میں مرکری کے استعمال سے جلد کا کینسر پھیل رہا ہے۔ قانون سازی اور معیار نہ ہونے کے باعث کاسمیٹکس ایکسپورٹ بھی نہیں ہوسکتیں۔ کاسمیٹکس بنانے والے ارب پتی بن چکے ہیں۔ چیچہ وطنی سب سے بڑا مرکز ہے۔ انھوں نے بتایا کہ بیرون ملک سے لوگ بیگ بھر بھر کر کاسمیٹکس لاتے ہیں جو بڑے اسٹورز پر فروخت ہوتی ہیں۔ اس بل میں کاسمیٹکس کی درآمد پر ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے جبکہ غیرمعیاری کاسمیٹکس بنانے اور امپورٹ کرنے پر سات سال قید اور ایک کروڑ روپے تک جرمانہ ہوگا۔ غیر معیاری کاسمیٹکس کی روک تھام کیلئے اتھارٹی بھی قائم کی جائے گی۔ کمیٹی نے دونوں بل اتفاق رائے سے منظور کرلئے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے