ذرائع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اسرائیل کو 2.8 ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ فروخت سے واقف ایک امریکی عہدیدار نے یہ معلومات فراہم کی ہیں۔عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔مجوزہ معاہدے میں ہزاروں 2,000 پاؤنڈ وزنی بم بھی شامل ہیں۔
عہدیدار کے مطابق امریکی انتظامیہ نے کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں کو اس سودے سے آگاہ کیا ہے۔یہ کمیٹیاں بڑے پیمانے پر اسلحے کی فروخت کے معاملات کا جائزہ لیتی ہیں۔مجوزہ سودے میں 20,000 ایم کے-84 بم شامل ہیں۔اس کے علاوہ 20,000 بی ایل یو-117 بم بھی پیکیج کا حصہ ہیں۔محکمہ خارجہ اور اسرائیلی سفارت خانے نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد اسرائیل کے لیے امریکی عوامی حمایت میں کمی آئی ہے۔یہ رجحان خاص طور پر ڈیموکریٹ ووٹرز میں نمایاں رہا ہے۔کوینی پیاک یونیورسٹی کے جون کے سروے میں اس حوالے سے رائے لی گئی۔سروے کے مطابق 48 فیصد ووٹرز نے کہا کہ امریکا اسرائیل کی ضرورت سے زیادہ حمایت کرتا ہے۔ڈیموکریٹ ووٹرز میں یہ شرح 66 فیصد رہی۔2017 میں اسی سوال پر یہ شرح 16 فیصد ووٹرز اور 20 فیصد ڈیموکریٹس تھی۔
