ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان نے کہا ہے کہ یمنی حوثیوں کے مسلسل حملوں کے باعث سعودی عرب کو کچھ عسکری ضروریات پیش آ سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ترکیہ ان ضروریات کا پاکستان کے ساتھ مل کر جائزہ لے گا۔خاقان فیدان کے مطابق یہ جائزہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت لیا جائے گا۔
ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ یمن میں جنگ کے خاتمے کے لیے تمام فریقین تک تجاویز پہنچا دی گئی ہیں۔انہوں نے سعودی عرب کو امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کا حصہ بنانے کی مخالفت کی۔خاقان فیدان نے کہا کہ سعودی عرب کو اس تنازع میں شامل کرنا ناقابلِ قبول ہے۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ان کے مطابق خطے کا بحران اب معاشی طور پر ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔
خاقان فیدان نے روس اور یوکرین کے تنازع کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ ترکیہ نے دونوں ممالک کو بحیرہ اسود میں لڑائی ختم کرنے کی پیشکش بھیجی ہے۔ترک وزیر خارجہ کے مطابق ان کی کوشش خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے امکانات بڑھانے پر مرکوز ہے۔
پاکستان نے اس سے قبل واضح کیا تھا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت وہ اپنا کردار ادا کرے گا۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے یہ بھی کہا تھا کہ اس وقت حوثیوں کے خلاف کسی فوری فوجی کارروائی پر بات نہیں ہو رہی۔
