ایرانی ترجمان کی علاقائی ممالک سے یمن پر الزام تراشی سے گریز کی اپیل

ایران کا یورپ کو انتباہ: جنگ میں شمولیت کو اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے علاقائی ممالک سے اپیل کی ہے۔انہوں نے یمن کے معاملے پر حقائق کو مدنظر رکھنے پر زور دیا۔بقائی نے ایران پر الزامات عائد کرنے سے بھی گریز کا مطالبہ کیا انہوں نے کہا کہ ایران یمن کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔

بقائی نے عمان میں علاقائی اجلاس کے معاملے پر بھی بات کی۔  انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اجلاس مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔ان کے مطابق اس کے بعد اجلاس کے انعقاد کا موقع فی الحال ضائع ہوگیا ہے۔بقائی نے ایران اور عمان کے درمیان سمندری راستوں پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ محفوظ سمندری راستوں پر دونوں ممالک میں مفاہمت ہوئی ہے۔

بقائی نے اپنے حالیہ دورہ لامرڈ کا بھی ذکر کیا۔لامرڈ کو رمضان جنگ کے دوران امریکی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ایرانی حکام نے وہاں صورتحال کا مشاہدہ کیا۔ان کے مطابق امریکی حملے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔

بقائی نے کہا کہ لامرڈ ایک چھوٹا شہر ہے۔اس کی آبادی تقریباً 30 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ان کے مطابق شہر کے مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جدید ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔

بقائی نے حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کا بھی ذکر کیا۔  انہوں نے اسے ممنوعہ کلسٹر ہتھیار قرار دیا۔ان کے مطابق حملہ خون کی منتقلی کے مرکز کے قریب ہوا۔  تعلیمی مرکز بھی حملے کے قریب موجود تھا۔بقائی نے اس کارروائی کو جنگی جرم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حملے کا مقصد خوف پھیلانا تھا۔

یمن میں ایرانی مداخلت کے الزامات پر بھی سوال کیا گیا۔بقائی نے ان الزامات کو مسترد کردیا۔انہوں نے کہا کہ ایران کا یمن کے معاملات میں کوئی دخل نہیں ہے۔بقائی نے کہا کہ یمن میں ہونے والی پیش رفت ایران کے لیے اہم ہے۔تاہم انہوں نے اسے ایرانی مداخلت قرار دینے سے اختلاف کیا۔ان کے مطابق کچھ بیرونی عناصر مسلم ممالک میں کشیدگی بڑھانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران ایسے عناصر کی سرگرمیوں پر تشویش رکھتا ہے۔ بقائی کے مطابق ایران کا مؤقف اسی تناظر میں بیان کیا جاتا ہے۔

قائی نے یمن کی انصار اللہ کو ایک آزاد جماعت قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ یہ گروپ اپنے مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔بقائی نے یمن کی موجودہ صورتحال کو ماضی سے جوڑنے پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ یمن گزشتہ 10 سے 12 سال سے مشکلات کا شکار ہے۔ ان کے مطابق یمن نے جارحیت اور ناکہ بندی کا سامنا کیا ہے۔

 

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے