ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی بحالی کی حمایت پر چینی صدر شی جن پنگ کا خیرمقدم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین کی جانب سے بات چیت اور سفارت کاری کی حمایت قابلِ قدر ہے۔ اختلافات کے حل کے لیے یہ راستہ اہم ہے۔صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران بھی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف واپسی کو اہم سمجھتا ہے۔ تہران اس سمجھوتے کو آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ مفاہمت کی طرف واپسی کے لیے طے شدہ وعدوں کی پاسداری ضروری ہے۔انہوں نے سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات پر زور دیا۔ ان کے مطابق نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے فریقین کو اپنے وعدے پورے کرنا ہوں گے۔پزشکیان نے کہا کہ قومی خودمختاری کا احترام بھی اہم ہے۔ کشیدگی میں کمی اور علاقائی امن کے لیے سفارت کاری جاری رہنی چاہیے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران امریکا اور ایران کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آنے پر زور دیا تھا۔شی جن پنگ نے مذاکرات کا عمل جاری رکھنے کی حمایت کی۔ انہوں نے جامع معاہدے کے لیے بات چیت آگے بڑھانے پر بھی زور دیا۔
صدر مسعود پزشکیان نے اس سے قبل امریکی میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران نے جنگ شروع نہیں کی۔ تاہم، اگر ایران پر حملہ ہوا تو وہ اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا۔ایرانی صدر نے مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی حمایت کا بھی اظہار کیا۔ حالیہ بیانات میں انہوں نے اسلام آباد مفاہمت کو دوبارہ فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
