وفاقی آئینی عدالت نے وراثتی جائیداد سے متعلق کیس کا اہم فیصلہ جاری کردیا، عدالت نے قرار دیا کہ پہلے سے فوت ہونے والے بھائی کے بچوں کو چچا کی جائیداد سے وراثتی حصہ نہیں مل سکتا، مسلم فیملی لاز آرڈیننس کی دفعہ چار صرف فوت شدہ بیٹے یا بیٹی کی اولاد پر ہوتا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ پہلے سے فوت شدہ بھائی کے بچوں کو چچا کی جائیداد میں حصہ نہیں ملے گا،شرعی حصے دار موجود ہوں تو دُور کے رشتہ دار وراثت کے حق دار نہیں ہوتے،مسلم فیملی لاز آرڈیننس کی دفعہ 4 کا اطلاق صرف بیٹے یا بیٹی کی اولاد پر ہوتا ہے،پہلے وفات پا چکے بھائی کے بچوں کو اس دفعہ کے تحت حق نہیں دیا جا سکتا، صرف خونی رشتہ ہونا کافی نہیں،وارث کی قانونی حیثیت بھی دیکھی جائے گی،اصل سوال یہ نہیں ہے کہ درخواست گزار متوفی کے رشتہ دار ہیں یا نہیں؟ سوال یہ ہے کہ آیا یہ رشتہ انھیں وراثت کے حقدار طبقے میں شامل کرتا ہے یا نہیں؟محض اس بنیاد پر ترکے کا وارث قرار نہیں دیا جاسکتا کہ ان کا والد متوفی کا بھائی تھا۔ وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا 18 مارچ 2026 کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
