آئی ایم ایف کا مشن آئیوا پیٹرووا کی قیادت میں پاکستان میں تقریباً دو ہفتے قیام کرے گا اور اکتوبر کے پہلے ہفتے تک ای ایف ایف کے چوتھے جبکہ آر ایس ایف کے تیسرے جائزے کا عمل مکمل کرے گا، دونوں جائزوں کی تکمیل کے بعد مجموعی طور پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی مالی معاونت ملنے کی توقع ہے۔
ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف کا وفد اسلام آباد پہنچ گیا ہے، مذاکرات میں وزیرخزانہ کےساتھ اقتصادی ٹیم بھی مذاکرات میں حصہ لے گی۔
ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام اورآئی ایم ایف کے مذاکرات 30 جون تک کے اعداد وشمار پر ہوں گے، پاکستان کی طرف سے ساورن ویلتھ فنڈ اورگردشی قرض میں کمی پربریفنگ دی جائے گی، آئی ایم ایف کو چینی کا شعبہ ڈی ریگولیٹ نہ کرنےکی وجوہات سے آگاہ کیا جائے گا۔
ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف کو کرنٹ اکاؤنٹ خسارے، پرائمری سرپلس صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا، غیرملکی زرمبادلہ اور شرح تبادلہ سے بھی آگاہ کیا جائےگا، آئی ایم ایف اور ایف بی آرکے مذاکرات میں ٹیکس نیٹ بڑھانے اوراصلاحات پربات ہوگی۔
وزارت توانائی کی جانب سے گردشی قرض اوراصلاحات پربریفنگ دی جائے گی، جبکہ نیب اورایف آئی اے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی فنڈنگ روکنے کے اقدامات سے آگاہ کریں گے۔
اس کے علاوہ آئی ایم ایف پنجاب اورکے پی حکومتوں سے بھی مذاکرات کرے گا، صوبوں سے ٹیکس اورنان ٹیکس ریونیووصولی بہتربنانے کے اقدامات پربات ہوگی، صوبوں سے زرعی ٹیکس کی وصولی پر بھی بات چیت کی جائے گی۔
ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق معاشی ٹیم کے باقاعدہ تکنیکی سطح کے مذاکرات پٹرولیم لیوی پر خصوصی سیشنز ہوں گے جبکہ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں نئی قسط کے حصول کیلئے پالیسی مذاکرات ہوں گے۔
آئی ایم ایف کو وزیراعظم کی پٹرول سبسڈی اسکیم پر بھی بریفنگ دی جائے گی، جون 2026 تک پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کا ہدف 1468 ارب روپے تھا، جون 2026 تک پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی 1567 ارب روپے جمع ہوئی، عالمی وفد کو بتایا جائے گا پاکستان نے بیشتر معاشی اہداف حاصل کیے ہیں۔
