وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں لکی مروت سے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا آغاز ہوگیا ہے، جس میں اراکین پارلیمنٹ اور کارکنوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔
پہلے مرحلے میں لکی مروت، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان اور بنوں سے کارکن لانگ مارچ میں شامل ہیں۔ لانگ مارچ کے شرکاء آج رات کرک کے قریب قیام کریں گے۔
سابق وزیراعلی علی امین گنڈاپور کا قافلہ ڈی آئی خان یارک ٹول پلازہ پر موجود ہے۔ پولیس نے بین الاصوبائی سڑکوں کو رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کردیا۔ وزیراعلی خیبرپختونخوا کی قیادت میں مرکزی قافلے کی آمد پر شرکاء آگے پیش قدمی کریں گے۔
قبل ازیں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس سے وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں پیش 7 نکاتی ڈرافٹ جاری کیا۔ کہا ڈرافٹ میں ایک مطالبہ بھی غیرآئینی، غیرقانونی نہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وزیر اعلیٰ نے مطالبہ کیا کہ وزیرِاعظم کی دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزبِ اختلاف سے ملاقات کا اہتمام کیا جائے۔ فریقین مشاورت اور مذاکرات سے 2ماہ کے اندر مؤثر اور قابلِ عمل پیشرفت یقینی بنائیں۔ ڈرافٹ کے مطابق حکومتی کمیٹی اپوزیشن سےقومی وسیاسی معاملات،باہمی اختلافات اور دیگرامور پر مذاکرات کرے۔
متن کے مطابق جیل مینول، آئینِ اور قوانین کےمطابق اسیروں کو حقوق دیے جائیں۔ بانی کو ڈاکٹرز کی رائے، ہدایات اور مشوروں کے مطابق علاج کی فراہمی یقینی بنائی جائے،قیدیوں سے ملاقاتوں کا انعقاد قانون اور جیل قواعد و ضوابط کے مطابق ہو۔ ملاقات کوکسی بھی فریق کیجانب سےسیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہیں کیاجائےگا۔تمام زیرِحراست رہنماؤں کی درخواستوں پرآئین کے مطابق 10 روزمیں غور کیا جائے گا۔
خیبرپختونخوامیں دہشتگردی کے خاتمے،عوام کے تحفظ اور قیام امن کویقینی بنایاجائےگا،اس ضمن میں وفاقی اورصوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔
