آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری راستوں کے مقامات ایران اور عمان نے طے کرلیے

US claims to have attacked Iranian missile sites near the Strait of Hormuz

ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے لیے محفوظ گزرگاہوں پر اتفاق کر لیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق دونوں ممالک نے محفوظ بحری راستوں کے جغرافیائی مقامات طے کر لیے ہیں۔ متعلقہ کوآرڈی نیٹس عالمی بحری ادارے کو فراہم کیے جائیں گے۔

اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان اس معاملے پر بات چیت جاری تھی۔ دونوں ممالک اب محفوظ راستوں کے مقامات پر متفق ہوگئے ہیں۔دونوں حکومتوں نے ان مقامات کو متعلقہ بین الاقوامی ادارے تک پہنچانے کے طریقہ کار پر بھی اتفاق کیا ہے۔

ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں محفوظ نیویگیشن کے لیے مرحلہ وار فریم ورک پر پہلے بھی بات چیت کی تھی۔ اگست میں دونوں ممالک نے عارضی مشترکہ بحری گزرگاہ کے قیام پر پیش رفت کا اعلان کیا تھا۔

نئی پیش رفت کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو بحال کرنا ہے۔ مستقل بحری گزرگاہ اور انتظامی طریقہ کار پر مزید بات چیت بھی جاری ہے۔

جون میں ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں محفوظ گزرگاہ کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔ دونوں ممالک نے بین الاقوامی قانون کے مطابق بحری آمد و رفت یقینی بنانے پر زور دیا تھا۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث یہاں بحری جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔رائٹرز کے مطابق 6 اکتوبر کو صرف سات کموڈیٹی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔ یہ تعداد 23 جولائی کے بعد کم ترین سطح تھی۔

ایران اور عمان کے درمیان محفوظ گزرگاہوں پر اتفاق سے بحری نقل و حرکت میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔ تاہم آبنائے میں مکمل معمول کی بحری سرگرمیوں کی بحالی کے لیے مزید اقدامات درکار ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے