اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق 7 اکتوبر کے حملے کے دوران متعدد اسرائیلی شہریوں کی جان بچانے والے عرب مسلم شہری یوسف الزیادنہ کا گھر اور دیگر املاک مسمار کردی گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یوسف الزیادنہ نے حملے کے دوران اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک میوزک فیسٹیول سے 30 اسرائیلی شہریوں کو بحفاظت نکالا تھا۔ اس خدمات کے اعتراف میں انہیں اسرائیل میں اعزاز بھی دیا گیا تھا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکام نے جنوبی شہر رہاط کے قریب کارروائی کی۔ اس دوران متعدد بلڈوزروں کی مدد سے یوسف الزیادنہ کا گھر، گودام اور پولٹری فارم گرا دیا گیا۔
یوسف کا خاندان کئی دہائیوں سے نقب کے علاقے میں آباد ہے۔ خاندان نے املاک کی ملکیت ثابت کرنے کے لیے پرانے دستاویزات بھی پیش کیے، تاہم وہ انہدام کی کارروائی رکوانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔
یوسف الزیادنہ پیشے کے اعتبار سے منی بس ڈرائیور ہیں۔ 7 اکتوبر کے حملے کے دوران انہوں نے فیسٹیول میں موجود اسرائیلی شہریوں کو محفوظ مقام تک پہنچانے میں مدد کی تھی۔
رپورٹس کے مطابق ان کی اس کارروائی پر اسرائیل میں انہیں سراہا گیا تھا۔ تاہم، حالیہ انہدام کے بعد ان کے خاندان کو اپنی رہائش اور دیگر املاک سے محروم ہونا پڑا۔
اپنی املاک مسمار کیے جانے پر یوسف الزیادنہ نے کہا کہ انہیں اسرائیلی شہریوں کی مدد کرنے پر کوئی پچھتاوا نہیں۔
ان کے مطابق، ’’ہماری پرورش اسی طرح ہوئی ہے۔‘‘ان کا بیان اس واقعے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ان کے گھر اور خاندان کی دیگر املاک کو مسمار کیا گیا۔
