آنجہانی نانا پاٹیکر بھی ایسے ہی بڑے آدمی تھے۔۔۔۔۔!!!
تحریر: امجد عثمانی
بڑے لوگوں میں ایک قدر مشترک ہوتی ہے اور وہ یہ کہ یہ مصنوعی لوگ نہیں ہوتے۔۔۔۔ان لوگوں میں ایک وصف اور بھی ہوتا ہے کہ یہ لوگ احساس کمتری کے مریض بھی نہیں ہوتے۔۔۔۔یہ کھلی کتاب ہوتے ہیں۔۔۔۔ اپنی زندگی کے باب کھول کھول کر لوگوں کے سامنے رکھتے ہیں۔۔۔شاید اسی لیے یہ لوگ اپنے محسنوں کو کبھی نہیں بھولتے۔۔۔۔ہندوستان کے آنجہانی اداکار نانا پاٹیکر بھی ایسے ہی ایک بڑے آدمی تھے۔۔۔
بھوک، بے قدری اور ابتدائی جدوجہد
نانا پاٹیکر نے ایک انٹرویو میں کیا گہری بات کہی کہ:
"سمندر سے بھی بڑا ایک اور سمندر ہوتا ہے، اور وہ ہے بھوک اور بے قدری۔۔۔۔”
انہوں نے اس انٹرویو میں یہ بھی بتایا:
"بنیادی طور پر میں ایک غریب آدمی تھا، میں فٹ پاتھ پر سویا ہوں۔ میں 13 سال کی عمر میں ملازمت کرنے لگا تھا، 35 روپے ماہانہ تنخواہ اور ایک وقت کا کھانا ملتا تھا۔ اُس وقت میرا کوئی رشتہ دار نہیں تھا، لیکن جب تھوڑا نام اور پیسہ آیا تو اچانک بہت سے رشتہ دار پیدا ہو گئے۔۔۔۔”
اشوک صراف کی سخاوت اور خلوص
نانا پاٹیکر نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی انکشاف کیا:
"وہ ایک شو میں کام کرتے تھے جہاں مجھے ہر شو کے 50 روپے ملتے تھے جبکہ معروف اداکار اشوک صراف کو 200 روپے، یعنی اُن سے چار گنا زیادہ معاوضہ دیا جاتا تھا۔۔۔۔”
نانا پاٹیکر کے مطابق جب اشوک صراف اُن کے ساتھ تاش کھیلتے تھے تو وہ جان بوجھ کر آٹھ دس روپے ہار جایا کرتے تھے۔۔۔۔۔
"مجھے پتا ہوتا تھا کہ وہ جان بوجھ کر ہار رہے ہیں، لیکن پھر بھی میں وہ پیسے لے لیتا تھا کیونکہ مجھے ان کی ضرورت تھی۔۔۔۔”
محسن کا احترام اور لازوال محبت
نانا پاٹیکر کہتے ہیں:
"اشوک نے میری بہت مدد کی، بہت زیادہ۔ وہ گنپتی کے موقع پر بھی مجھے خاص طور پر پیسے دیا کرتے تھے۔ جب میں وہ واپس کرنے جاتا تو اشوک ہنس کر کہتے، کیوں پاٹیکر، کیا آپ مالدار ہو گئے ہیں؟ میں انھیں کہتا کہ میں صرف پیسے واپس کر سکتا ہوں، وہ وقت نہیں لوٹا سکتا جو آپ نے میرے لیے صرف کیا۔۔۔۔”
"میں اشوک کے پاؤں دباتا تھا اور ان کے سر کی ہلکی سی مالش کر دیتا تو وہ مجھے تین روپے دے دیتے تھے۔۔۔۔۔آج بھی جب کہیں اشوک سے ملاقات ہوتی ہے اور میں ان کے پاؤں دبانے لگتا ہوں تو وہ جھڑک کر کہتے ہیں کہ یہ سب کیا ہے؟ اس پر میں انہیں کہتا ہوں، یہ ہماری آمدنی کا ذریعہ ہے۔۔۔۔ پھر دو منٹ ان کے سر کی مالش کرتا ہوں تو وہ پانچ یا 10 روپے دیتے ہوئے مذاق میں کہتے ہیں، چلو لے لو، لے لو، مہنگائی بڑھ گئی ہے، مزے کرو!‘”
