امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نوبیل امن انعام نہ ملنے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ناروے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس فیصلے کو نہیں بھولے گا۔
نیویارک کے شہر سائیراکیوز میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہ باتیں کہیں۔ ٹرمپ نے انعام کے فیصلے کو شرمناک اور مایوس کن قرار دیا۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے کئی تنازعات ختم کرانے میں کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق، وہ تاریخ میں کسی بھی شخص سے زیادہ جانیں بچا چکے ہیں۔
انہوں نے ایران اور یوکرین کے تنازعات کا بھی ذکر کیا۔ ٹرمپ نے توقع ظاہر کی کہ یہ معاملات جلد حل ہوجائیں گے۔ انہوں نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کا دعویٰ بھی کیا۔ٹرمپ کے مطابق، انہوں نے ایران کو اسرائیل اور یورپ کو تباہ کرنے سے روکا۔ تاہم، ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
ٹرمپ نے نوبیل امن انعام کے فیصلے کو ناروے کی ساکھ کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے نے انعام کی ساکھ متاثر کی ہے۔
ناروے کی نوبیل کمیٹی نے 2026 کا امن انعام جنوبی افریقا کی قانون دان ناوی پلے کو دیا ہے۔ کمیٹی نے انسانی حقوق اور عالمی قانون کے لیے ان کی خدمات کو تسلیم کیا۔ٹرمپ نے ناوی پلے کے انتخاب پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکی صدر کو یہ اعزاز ملنا چاہیے تھا۔
کریملن کے مطابق، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ٹرمپ نے جمعہ کو ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ بات چیت تقریباً ڈیڑھ گھنٹے جاری رہی۔دونوں رہنماؤں نے یوکرین جنگ کے حل پر تبادلہ خیال کیا۔ ایران کی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات بھی گفتگو کا حصہ رہے۔
کریملن کے مطابق، پیوٹن نے کہا کہ روس یوکرین کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے امکانات کا جائزہ لے گا۔ تاہم، انہوں نے فوری طور پر مذاکرات کی بحالی کے بارے میں تحفظات بھی ظاہر کیے۔
ٹرمپ نے روس سے ڈیزل کی فراہمی کے معاہدے کا بھی اعلان کیا۔ ان کے مطابق، روس امریکا اور عالمی منڈیوں کو ڈیزل فراہم کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد ایندھن کی قیمتوں میں کمی لانا ہے۔
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اس معاہدے پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ روس پر عائد پابندیوں میں نرمی یوکرین کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہے۔ٹرمپ نے معاہدے کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو ڈیزل کی ضرورت ہے اور وہ اس معاہدے سے خوش ہیں۔
