پاکستان نے اقوام متحدہ سے جنوبی ایشیا میں اسلحے کی دوڑ روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل پر مذاکرات پر بھی زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے مستقل مندوب طاہر حسین اندرابی نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں جنگوں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ بین الاقوامی قانون کی عمل داری بھی کمزور پڑ رہی ہے۔
طاہر اندرابی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تحمل اور سفارت کاری کا راستہ ترک کرنا خطرناک ہے۔
پاکستانی مندوب نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق، ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے نتیجے میں جنگ بندی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سامنے آئی۔
طاہر اندرابی نے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مکہ دفاعی معاہدے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے۔ان کے مطابق، معاہدہ اقوام متحدہ کے منشور سے مطابقت رکھتا ہے۔ پاکستان نے اسے خطے میں دفاعی تعاون کے تناظر میں پیش کیا۔
پاکستانی مندوب نے جنوبی ایشیا کی صورت حال پر تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق، بھارت کے عسکری نظریات اور فوجی توسیع خطے میں عدم استحکام بڑھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلحے کی دوڑ میں شامل نہیں ہونا چاہتا۔ تاہم، پاکستان اپنی ضروریات کے مطابق دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گا۔
طاہر اندرابی نے جوہری ہتھیاروں کے خطرات سے بھی خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جوہری صلاحیتوں کی موجودگی میں جنگ کو قابو میں سمجھنا درست نہیں۔
پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا مطالبہ کیا۔ طاہر اندرابی نے کہا کہ تنازعات کا پائیدار حل سفارت کاری اور بات چیت میں ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ خطے میں امن کے لیے مذاکرات اور تحمل ضروری ہیں۔ اس کے مطابق، عسکری کشیدگی میں اضافہ پورے جنوبی ایشیا کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
