ورلڈ اکنامک فورم کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک تجزیے میں پاکستان کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیوں پر زور دیا گیا ہے۔ تجزیے کے مطابق، بڑھتی آبادی کے باعث سرکاری اداروں پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
تجزیے میں 16 صوبائی اکائیوں سے لے کر 30 سے زائد انتظامی یونٹس کے مختلف ماڈلز پیش کیے گئے ہیں۔ اس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ چھوٹی انتظامی اکائیاں فیصلہ سازی اور عوامی خدمات کو شہریوں کے قریب لا سکتی ہیں۔
تاہم، یہ ورلڈ اکنامک فورم کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والا تجزیاتی مضمون ہے۔ اسے فورم کی جانب سے نئے صوبے بنانے کی باضابطہ منظوری یا سرکاری پالیسی قرار نہیں دیا گیا۔
تجزیے کے مطابق، پاکستان کی آبادی 2030 تک 26 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ ملک اس وقت چار صوبوں پر مشتمل ہے۔موجودہ صوبوں کی اوسط آبادی تقریباً 6 کروڑ بنتی ہے۔ اس کے باعث صوبائی دارالحکومتوں سے دور اضلاع تک سرکاری خدمات پہنچانا مشکل ہو سکتا ہے۔
تجزیے میں لاہور اور بلوچستان کے ضلع ہرنائی کی مثال بھی دی گئی ہے۔ لاہور ضلع کی آبادی تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ ہے۔ اس کے مقابلے میں ہرنائی کی آبادی تقریباً ایک لاکھ 28 ہزار ہے۔
مصنف کے مطابق، مختلف ضروریات رکھنے والے علاقوں کے لیے یکساں پالیسیاں بنانا مشکل ہوتا ہے۔ اس سے عوامی خدمات اور وسائل کی تقسیم متاثر ہو سکتی ہے۔
تجزیے میں انتظامی ڈھانچے کی تبدیلی کے لیے تین ممکنہ ماڈلز پیش کیے گئے ہیں۔پہلی تجویز کے تحت ہر موجودہ صوبے کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح ملک میں 16 صوبائی اکائیاں بنیں گی۔ ہر اکائی کی اوسط آبادی تقریباً ڈیڑھ کروڑ ہو سکتی ہے۔
دوسری تجویز میں آبادی اور جغرافیائی ضروریات کی بنیاد پر 23 سے 25 اکائیاں بنانے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ تیسرا ماڈل موجودہ ڈویژنز کو بنیاد بنا کر 30 سے زائد اکائیاں تشکیل دینے سے متعلق ہے۔یہ تجاویز مختلف ممکنہ انتظامی ماڈلز ہیں۔ انہیں حکومت کا منظور شدہ منصوبہ نہیں کہا جا سکتا۔
