ٹرمپ کا سعودی عرب کی حمایت میں حوثیوں کے خلاف کارروائی کا عندیہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حالیہ حملے کے بعد حوثیوں کے خلاف ممکنہ کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ مل کر کارروائی کرنے پر غور کرسکتا ہے۔ ایران کے خلاف دوبارہ حملے شروع کرنے کا معاملہ بھی زیرِ غور آنے کا اشارہ دیا گیا ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں تازہ حملے کے بارے میں ابھی معلوم ہوا ہے۔ ان کے مطابق، امریکا صورتحال کا جائزہ لے گا اور اس کے بعد فیصلہ کرے گا۔

ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکا سعودی عرب کے ساتھ مل کر حوثیوں کو نشانہ بنا سکتا ہے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ ایسا ممکن ہے اور واشنگٹن اس معاملے کا جائزہ لے گا۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا فیصلے تیزی سے کرتا ہے۔ تاہم، انہوں نے فوری طور پر کسی فوجی کارروائی کا اعلان نہیں کیا۔

امریکی صدر نے جمعرات کو کہا تھا کہ امریکا 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے اس فیصلے کی وجہ ایران کے ساتھ جاری بات چیت کو قرار دیا تھا۔

تاہم، سعودی ایئرپورٹ پر تازہ حملے کے بعد ٹرمپ کے بیانات نے خطے میں امریکی فوجی حکمتِ عملی کے حوالے سے نئے سوالات پیدا کیے ہیں۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ واشنگٹن ایران کے خلاف اپنے سابقہ اعلان میں کوئی تبدیلی کرے گا یا نہیں۔

 

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے