وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات، امن و امان کی خراب صورت حال اور سرحد پار سے دراندازی کے پیش نظر ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا۔
اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے ڈھائی گھنٹے تک صورت حال پر غور کرنے کے بعد وزیراعظم کو ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے صدر مملکت کو مشورہ دینے کی سفارش کی۔ یہ فیصلہ خوش دلی سے نہیں بلکہ تمام دوسرے راستے اختیار کرنے اور حالات میں بہتری نہ آنے کے بعد آخری آپشن کے طور پر کیا گیا۔
وزیر قانون نے کہا کہ گورنر خیبر پختونخوا طویل عرصے سے صوبے کے متعدد اضلاع میں دہشتگردی کی سنگین صورت حال اور انسداد دہشتگردی کے بجائے سیاسی سرگرمیوں پر توجہ دینے کی شکایت کر رہے تھے۔ ان کے مطابق گورنر نے صدر مملکت اور وزیراعظم کو خط کے ذریعے بھی صورت حال سے آگاہ کیا تھا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے صوبے میں امن و امان کی سنگین صورت حال کے باوجود سیاسی سرگرمیوں اور دوسرے شہروں کے دوروں کو ترجیح دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو شہدا کے اہل خانہ سے ملاقات، زخمیوں کی عیادت، سیکیورٹی صورت حال کا جائزہ لینے اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے پر توجہ دینی چاہیے تھی۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر سیکیورٹی فورسز کا ساتھ دینا چاہیے۔ مسلح افواج، پولیس اہلکاروں اور شہریوں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے واقعات کے ساتھ شہادتوں اور زخمیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے اسلام آباد پر چڑھائی اور دارالحکومت فتح کرنے سے متعلق بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی۔
وزیر قانون نے دعویٰ کیا کہ انسداد دہشتگردی کے اقدامات پر بات چیت کے دوران اپوزیشن کی جانب سے جیل میں قید اپنے رہنما سے ملاقات اور انہیں سہولتیں دینے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی قیدی کی رہائی یا مقدمے میں قانونی کارروائی کا اختیار متعلقہ عدالتی نظام کے تحت استعمال ہوتا ہے، جبکہ آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت صدر مملکت کو سزا معاف کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حکومت نے آئین میں موجود اختیارات اور متعلقہ قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایمرجنسی کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے اعلان کو منظوری کے لیے 10 روز کے اندر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت بھی صوبے میں آئینی نظام کے غیر مؤثر ہونے کی صورت میں اقدامات کی گنجائش موجود ہے۔ ان کے بقول ایمرجنسی کے اعلان کے بعد وفاقی حکومت نے گورنر خیبر پختونخوا کو صوبائی امور کی ذمہ داری سونپی ہے۔
وزیر قانون نے بتایا کہ صوبے کے 12 زیادہ متاثرہ اضلاع کے لیے خصوصی طریقہ کار بھی متعارف کرایا گیا ہے تاکہ ان علاقوں پر خصوصی توجہ دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق اعلامیہ اور اس کے بعد کے اقدامات پارلیمان کے سامنے رکھے گئے ہیں، جہاں ایوان اس معاملے پر بحث اور منظوری کے حوالے سے اپنا آئینی کردار ادا کرے گا۔
