روسی وزیر اعظم میخائل مشوستن نے کہا ہے کہ بیرونی دباؤ میں اضافے کے باوجود روس اور چین کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعاون مضبوطی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ دونوں ممالک کی باہمی تجارت میں قومی کرنسیوں کا حصہ 100 فیصد کے قریب پہنچ گیا ہے۔
روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق، مشوستن نے یہ بات چین کی ریاستی کونسل کے پریمیئر لی چیانگ کے ساتھ 31ویں باقاعدہ ملاقات سے قبل گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت تقریباً مکمل طور پر قومی کرنسیوں میں ہو رہی ہے۔
میخائل مشوستن نے کہا کہ گزشتہ 25 سال کے دوران روس اور چین کی باہمی تجارت کا حجم 30 گنا سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاری، توانائی، ثقافت اور انسانی امور میں تعاون کی مسلسل پیش رفت کو بھی سراہا۔
ان کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان علاقائی سطح پر تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں۔ عوام کے درمیان براہِ راست رابطوں میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
روسی وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں حکومتیں اپنی معیشتوں کے ٹھوس مسابقتی فوائد کی بنیاد پر ترقی کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہیں۔ ان کوششوں کا مقصد اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم بنانا ہے۔
مشوستن نے زور دیا کہ روس اور چین اپنے مشترکہ مفادات کا دفاع کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک اپنی صنعتی اور تکنیکی خودمختاری کو بھی مضبوط بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ روس اور چین باہمی احترام، اچھے ہمسایہ تعلقات اور مشترکہ فوائد پر مبنی اہداف حاصل کرنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔
روسی وزیر اعظم نے توانائی اور نقل و حمل کے شعبوں میں تعاون کی سٹریٹجک اہمیت بھی اجاگر کی۔ ان کے مطابق، یہ شعبے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں اہم مقام رکھتے ہیں۔
مشوستن نے کہا کہ روس اور چین زراعت میں تعاون کو خصوصی اہمیت دے رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے لیے غذائی تحفظ یقینی بنانا بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم، سائنس، ثقافت اور کھیلوں کے شعبوں میں بھی تعاون فعال انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔
روسی وزیر اعظم کے مطابق، دونوں ممالک کے ثقافتی اور سماجی تعلقات کی بنیاد عوام کے درمیان دوستی اور باہمی لگاؤ کی دیرینہ روایات پر قائم ہے۔ یہ روابط روس اور چین کی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔


