امریکا کا مجموعی سرکاری قرضہ بڑھ کر تقریباً 40.4 ٹریلین ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔ روسی خبر رساں ادارے تاس نے امریکی محکمہ خزانہ کی رپورٹ کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، گزشتہ دو ماہ کے دوران امریکی قرضے میں تقریباً 400 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ اس سے قبل 19 اگست کو سرکاری قرضہ پہلی بار 40 ٹریلین ڈالر کی سطح تک پہنچا تھا۔ اس کے بعد قرضوں کے حجم میں تقریباً ایک فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
امریکی اقتصادی ماہرین کی پیش گوئیوں کے مطابق، آئندہ ایک دہائی میں قومی قرضہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 120 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔
اس صورت میں وفاقی حکومت کا قرضہ امریکی معیشت کی سالانہ پیداوار سے بھی بڑھ جائے گا۔ یہ صورتِ حال ملک کے مالیاتی نظام اور حکومتی اخراجات کے لیے اہم چیلنج بن سکتی ہے۔
امریکی حکومت اپنے قومی قرضے پر سود کی ادائیگی کے لیے سالانہ تقریباً 970 ارب ڈالر خرچ کرتی ہے۔ یہ رقم امریکی دفاعی اخراجات سے بھی زیادہ بتائی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، 2020 کے بعد سے سود کی ادائیگیوں پر امریکی اخراجات تین گنا ہو چکے ہیں۔ اس اضافے سے وفاقی بجٹ پر مالی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اکنامکس کے مطابق، امریکی حکومت کے اخراجات یا ٹیکس نظام میں اصلاحات نہ کی گئیں تو قرضے میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
ادارے کے مطابق، موجودہ رجحانات جاری رہنے کی صورت میں امریکی قومی قرضہ چھ سال کے اندر 50 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ پیش گوئی حکومتی مالیاتی پالیسی اور ٹیکس نظام میں اصلاحات کی ضرورت کو نمایاں کرتی ہے۔


