ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران میں چار ملکی اجلاس کی تجویز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دی تھی۔ یہ تجویز ان کے حالیہ دورۂ ایران کے دوران پیش کی گئی۔
پریس بریفنگ میں اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ایران نے اس تجویز کو منظور کرلیا ہے۔ ان کے مطابق اجلاس میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے حکام شرکت کر رہے ہیں۔
اسماعیل بقائی کے مطابق اجلاس میں علاقائی سلامتی سے متعلق امور زیرِ بحث آئیں گے۔ شرکا اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں اور ایران کے خلاف امریکی جنگ سے متعلق معاملات پر بھی بات کریں گے۔
ترجمان نے کہا کہ اسرائیلی انتخابات کے نتائج ایران کے لیے اہمیت نہیں رکھتے۔ ان کے بیان کے مطابق تہران کی توجہ علاقائی معاملات اور سلامتی کے مسائل پر مرکوز ہے۔
انہوں نے چار ملکی اجلاس کو علاقائی سلامتی کے نظام میں تعاون کی جانب اہم قدم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعاون کو فروغ دے سکتی ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ قطری وفد نے گزشتہ روز تہران کا دورہ کیا تھا۔ ان کے مطابق یہ دورہ علاقائی ممالک کے ساتھ جاری مذاکرات کے سلسلے میں ہوا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ رابطے قطری ثالثی کے فریم ورک کے تحت کیے گئے۔ تاہم، انہوں نے ان مذاکرات کے مزید نتائج کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
اسماعیل بقائی کے مطابق علاقائی ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کے بغیر پائیدار سلامتی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ چار ملکی اجلاس علاقائی سلامتی کے لیے وسیع تر تعاون کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی استحکام کے لیے خطے کے ممالک کی داخلی صلاحیتوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ ان کے بقول، متعلقہ ممالک کی مرضی اور سلامتی کے تقاضوں کا احترام بھی ناگزیر ہے۔


