ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام نے ملاقات کی۔ یہ رابطے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور علاقائی سلامتی کے امور پر تعاون کے تناظر میں ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق، مکہ دفاعی معاہدے میں شریک ممالک کے اعلیٰ حکام تہران پہنچے۔ پاکستان کی نمائندگی کے لیے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران پہنچے، جبکہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی تہران میں موجود ہیں۔
ایرانی حکام نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے وفود کا استقبال کیا۔ اطلاعات کے مطابق، محسن رضائی نے ان ممالک کے اعلیٰ حکام کا خیرمقدم کیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بھی ایران پہنچ گئے ہیں۔ سعودی سی 130 طیارہ تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ پر اترا۔
سعودی حکام کی شرکت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ اس ملاقات میں علاقائی صورتحال اور بحران کے سفارتی حل پر توجہ دی جا رہی ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ چار ملکی اجلاس کی تجویز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے دورۂ ایران کے دوران پیش کی تھی۔
ان کے مطابق، ایران نے اس تجویز کا خیرمقدم کیا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے حکام کے دورۂ تہران کو علاقائی سلامتی کے نظام میں تعاون کی جانب اہم قدم قرار دیا۔
سعودی وزارتِ خارجہ کے ایک عہدیدار کے مطابق، مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک اور ایرانی قیادت کے درمیان ملاقات خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
عہدیدار نے کہا کہ مکہ معاہدے کے ممالک کشیدگی کم کرنے کی ثالثی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔ ان ممالک کا مؤقف ہے کہ موجودہ بحران کا حل سفارتی ذرائع سے تلاش کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ ملاقات بھی کشیدگی میں کمی کے لیے جاری کوششوں کے دائرے میں آتی ہے۔ اس سفارتی رابطے کا مقصد علاقائی تعاون کو فروغ دینا اور بحران کے پُرامن حل کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران کے درمیان یہ رابطے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
اجلاس کے نتائج اور شرکا کے درمیان ہونے والی گفتگو کی مزید تفصیلات سامنے آنے پر اس سفارتی پیش رفت کے اثرات واضح ہوں گے۔


