مصری میڈیا کے مطابق، مصر کی پارلیمنٹ نے سعودی عرب کو عسکری مدد فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ پارلیمنٹ نے صدر عبدالفتاح السیسی کو اس حوالے سے اختیار سونپا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، پارلیمنٹ کا تیسرا اجلاس اسپیکر ہشام بدوی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس دوران سعودی عرب کو مختلف نوعیت کی عسکری معاونت فراہم کرنے کے معاملے پر غور کیا گیا۔
اس سے قبل صدر السیسی کی درخواست پر گزشتہ ہفتے دو بند کمرہ اجلاس بھی ہوئے تھے۔ سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حالیہ حملوں کے بعد یہ معاملہ زیرِ بحث آیا۔
مصری میڈیا کے مطابق، یہ پیش رفت مصر کی قومی دفاعی کونسل کے اجلاس کے بعد سامنے آئی۔ اجلاس کی صدارت صدر عبدالفتاح السیسی نے کی۔
اجلاس میں خطے کی مجموعی صورتحال اور سعودی عرب پر حالیہ حملوں کا جائزہ لیا گیا۔ مصری قیادت نے سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری سے متعلق امور پر بھی غور کیا۔
رپورٹس کے مطابق، تقریباً 500 ارکانِ پارلیمنٹ نے اس معاملے پر بحث میں حصہ لینے کی درخواست کی تھی۔ اسی وجہ سے حتمی ووٹنگ سے پہلے مزید اجلاس منعقد کیے گئے۔
مصری پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر عاصم الجزار کے مطابق، گزشتہ دو اجلاسوں میں 100 سے زائد ارکان اظہارِ خیال کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیشتر ارکان نے سعودی سرزمین کے دفاع کے لیے عسکری مدد کی حمایت کی۔ ان ارکان نے صدر کو فوج بھیجنے کی اجازت دینے کی بھی حمایت کی۔
عاصم الجزار نے واضح کیا کہ مصر خطے میں امن برقرار رکھنے کے لیے سفارت کاری کو بنیادی ترجیح دیتا ہے۔
مصری آئین کے آرٹیکل 152 کے تحت صدر کو جنگ کے اعلان سے متعلق مخصوص آئینی تقاضے پورے کرنا ہوتے ہیں۔ اس کے لیے قومی دفاعی کونسل سے مشاورت اور پارلیمنٹ کے دو تہائی ارکان کی منظوری ضروری ہے۔
ان شرائط کے بغیر صدر جنگ کا اعلان یا ملک کی سرحدوں سے باہر جنگی کارروائیوں کے لیے مسلح افواج تعینات نہیں کر سکتے۔


