بنگلہ دیش میں عوامی لیگ پر پابندی کا معاملہ اقوام متحدہ تک پہنچ گیا ہے۔ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین سے رجوع کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جماعت پر پابندی کا نوٹس لیا جائے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے آزادانہ، منصفانہ اور جامع انتخابات کے لیے آواز اٹھانے پر زور دیا۔
برطانیہ کے قانونی ادارے میٹرکس چیمبرز کی ویب سائٹ پر شائع تفصیلات کے مطابق، شیخ حسینہ نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کو تحریری مراسلہ بھیجا ہے۔ میٹرکس چیمبرز بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق سمیت مختلف شعبوں میں کام کرتا ہے۔ مراسلے میں عوامی لیگ پر پابندی برقرار رکھنے پر سنگین تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں۔
مراسلے کے مطابق، عوامی لیگ پر پابندی ابتدا میں بنگلہ دیش کی عبوری انتظامیہ نے عائد کی تھی۔ تاہم، طارق رحمان کی قیادت میں قائم نئی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی حکومت نے یہ پابندی برقرار رکھی۔ اس کے بعد پابندی کو باضابطہ شکل دے دی گئی۔
شیخ حسینہ کا مؤقف ہے کہ اس فیصلے سے بڑی تعداد میں شہری سیاسی نمائندگی سے محروم ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق، اس پابندی سے ملک کا جمہوری عمل بھی متاثر ہو رہا ہے۔ مزید یہ کہ عوامی لیگ کے حامی اپنی پسند کی جماعت کے ذریعے سیاسی عمل میں حصہ نہیں لے پا رہے۔


