اقوام متحدہ نے افغانستان میں مذہبی آزادی پر بڑھتی ہوئی پابندیوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یو این اے ایم اے) کے مطابق، طالبان حکام نے بدخشان میں اسماعیلی کے 33 جماعت خانے بند کر دیے ہیں۔ اس کے علاوہ، اہل تشیع کی مذہبی رسومات پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
یو این اے ایم اے کی تازہ سہ ماہی انسانی حقوق کی رپورٹ میں ان اقدامات کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر سمیت متعلقہ طالبان اداروں نے مذہبی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کیں۔ ان اقدامات سے مختلف مسلم برادریوں کی مذہبی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، بدخشان میں اسماعیلی کے کم از کم 33 جماعت خانے بند کیے گئے ہیں۔ ان میں سے 17 ضلع زیباک، 14 ضلع اشکاشم اور دو ضلع واخان میں واقع ہیں۔
یو این اے ایم اے کے مطابق، حکام نے نمازیوں اور عبادت کرنے والوں کو ان عمارتوں کا استعمال بند کرنے کی ہدایت دی۔ حکام نے عمارتوں میں محرابوں کی موجودگی کو اس فیصلے کی وجہ بتایا۔ ان کا مؤقف تھا کہ یہ مقامات جماعت خانوں کے بجائے مساجد کے طور پر استعمال ہونے چاہییں۔
تاہم، اس اقدام کے نتیجے میں اسماعیلی برادری کی عبادت گاہوں تک رسائی متاثر ہوئی ہے۔ رپورٹ میں ان پابندیوں کو مذہبی سرگرمیوں سے متعلق وسیع تر اقدامات کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کابل کے ایک اور واقعے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اہل تشیع کی ایک امام بارگاہ پر قبضہ کر کے اسے مدرسے میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس کے بعد اہل تشیع کے پیروکاروں کے وہاں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔


