مشیرِ اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا ثمر ہارون بلور کے مطابق اس سلسلے میں انسانی حقوق سے متعلق اداروں کے درمیان رابطہ کاری اور معلومات کے تبادلے کے حوالے سے ایک مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں شکایات کے مؤثر ازالے کے لیے مشترکہ ڈیجیٹل نظام کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
ثمر ہارون بلور نے بتایا کہ مجوزہ پورٹل کے ذریعے شکایات کے حل میں تاخیر اور مختلف اداروں کی جانب سے ایک ہی نوعیت کی کوششوں میں تکرار کو کم کرنے میں مدد ملے گی، اس مقصد کے لیے موجودہ اداروں کو مشترکہ ڈیجیٹل نظام سے منسلک کیا جائے گا اور کوئی نیا متوازی ادارہ قائم نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ تمام متعلقہ ادارے اپنے قانونی دائرۂ اختیار میں رہتے ہوئے کام جاری رکھیں گے، محکمۂ سماجی بہبود، پولیس، محتسبین اور انسانی حقوق سے متعلق دیگر اداروں کو بھی اس نظام کا حصہ بنایا جائے گا۔
مشیرِ اطلاعات نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ انسانی حقوق سے متعلق شکایات کو مناسب اداروں تک پہنچانے کے مؤثر طریقۂ کار اور معلومات کے محفوظ تبادلے کے لیے اقدامات تیز کیے جائیں، انہوں نے ضلعی سطح پر انسانی حقوق کے تحفظ اور ادارہ جاتی رابطہ کاری کو مؤثر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
مجوزہ طریقۂ کار کے تحت ہر ضلع میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (اے ڈی سی) انسانی حقوق سے متعلق امور اور شکایات کو متعلقہ اداروں کے پاس ریفر کرے گا، جبکہ ڈسٹرکٹ پولیس افسرز (ڈی پی اوز) کے دفاتر میں انسانی حقوق سے متعلق ہیلپ ڈیسک قائم کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔
ثمر ہارون بلور نے کہا کہ یہ منصوبہ اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے تعاون اور یورپی یونین کے فنڈڈ پروگرام حقوقِ پاکستان کے تحت آگے بڑھایا جائے گا، منصوبے پر عمل درآمد سے صوبائی وسائل پر اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
مشیرِ اطلاعات نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ایک ماہ کے اندر مشترکہ ڈیجیٹل پورٹل کی پیش رفت اور اس پر عمل درآمد کے لیے کیے گئے اقدامات سے متعلق تفصیلی بریفنگ پیش کی جائے۔

