لاہور ہائیکورٹ نےاولاد کے قتل پر قصاص سےمتعلق اہم فیصلہ جاری کرتےہوئے قراردیا ہےکہ والدین کو اپنی اولاد کےقتل پرقصاص سے استثنیٰ توحاصل ہوسکتا ہے،تاہم اس بنیاد پرانہیں جرم سے بری نہیں کیا جاسکتا۔
جسٹس محمد امجد رفیق نےملزمہ شگفتہ پروین کی اپیل پر 20 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا،عدالت نےقرار دیا کہ قصاص لاگو نہ ہونے کی صورت میں بھی قتل کے جرم پر تعزیری سزا دی جاسکتی ہے۔
مقدمے کےمطابق 2022 میں حافظ آباد میں شگفتہ پروین کے گھر سے اسکے تین سال اور نو ماہ کے دو بیٹوں کی لاشیں ملی تھیں۔ ٹرائل کورٹ نے 28 جون 2024 کو دونوں بچوں کے قتل کے جرم میں ملزمہ کو دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
ٹرائل کورٹ نے دونوں بچوں کے ورثا کو دو، دو لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے اور خودکشی کی کوشش کے جرم میں چھ ماہ قید کی سزا بھی سنائی تھی۔
لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلےمیں واضح کیا کہ شوہر کے ساتھ تنازع اور ذہنی دباؤ بذاتِ خود قانونی طور پر ذہنی عدم اہلیت ثابت نہیں کرتے،عدالت نے بچوں کے ورثا کو معاوضے کی ادائیگی اور خودکشی کی کوشش کے جرم میں چھ ماہ قید کی سزا برقرار رکھی۔
عدالت نے دو بیٹوں کے قتل کے مقدمے میں ماں کی عمر قید کی سزائیں کم کرکے دس، دس سال قید میں تبدیل کردی ہیں۔

