مکہ میں حرمِ پاک کے کبوتر مقدس شہر کی صدیوں پرانی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔یہ مقدس شہر کے منظرنامے کا لازمی حصہ اور ورثے کی علامت ہیں، حرم کی حدود میں ان کے شکار کرنے پر پابندی ہے۔کبوتروں کے غول صدیوں سے مکہ کے آسمانوں، صحنوں اور چھتوں پر پرواز کرتے رہے ہیں۔ یہ اس مقدس شہر کے منظرنامے کا ایک لازمی حصہ اور یہاں کے رہائشیوں، زائرین اور سیاحوں کی کئی نسلوں کے لیے ایک مانوس نظارہ ہیں۔مقامی طور پر انہیں حمام الحِمیٰ (حرم کے کبوتر) اور حمام الرب البیت (ربِ کعبہ کے کبوتر) کہا جاتا ہے۔ یہ پرندے اسلام کے مقدس ترین شہر کے سکون اور ورثے کی علامت ہیں اور ان کی موجودگی اس شہر کے تاریخی ماضی کو آج کی روزمرہ زندگی سے ملاتی ہے۔مکہ کی تاریخ میں ان کا مقام صرف مسجد الحرام کے ارد گرد نظر آنے تک محدود نہیں ہے۔ شہر کی مذہبی، قانونی اور ثقافتی روایات میں ان کی اہمیت تاریخی تحریرات میں بیان کی گئی ہے جس میں حرم کی حدود کے اندر ان کے شکار یا انہیں تنگ کرنے پر عائد وہ قدیم پابندی بھی شامل ہے جو آج بھی برقرار ہے۔ابتدائی دور کے مؤرخ ابو الولید الازرقی نے اپنی تاریخی تصنیف ‘اخبارِ مکہ’ میں ان فقہی احکامات کا ذکر کیا ہے جو حرم کے مقدس احاطے میں جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق ہیں۔ ایک اور مؤرخ محمد الفقیہی نے ایسے ادبی حوالہ جات، شاعری اور مقامی روایات قلمبند کی ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کس طرح یہ کبوتر مکہ کی سماجی اور ثقافتی شناخت کا حصہ بن گئے۔مصری مؤرخ محمد البطنونی نے مسجد الحرام کے صحنوں، چھتوں اور محراب دار دروازوں پر بڑی تعداد میں موجود کبوتروں کا احوال بیان کیا ہے۔ انہوں نے عبادت گذاروں کے ان پرندوں کو دانہ پانی فراہم کرنے کے عمل کا بھی ذکر کیا ہے جو اس روایت کی عکاسی کرتا ہے کہ ان کی نگہداشت شہر کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔مکہ کی مرکزی شاہراہوں اور مسجد الحرام کے قریب کشادہ مقامات پر ان کبوتروں کی ہم آہنگ نقل و حرکت، حج و عمرہ کے تجربے کا ایک مانوس حصہ ہے۔ کئی زائرین کے لیے شہر کے اوپر پرندوں کے غول کا چکر لگانا اتنا ہی یادگار ہوتا ہے جتنا کہ مسجد کے اردگرد موجود تاریخی فنِ تعمیر۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پرندے اکثر زائرین کی تصاویر میں نظر آتے ہیں اور سفرناموں میں ان کا ذکر ملتا ہے۔تاہم یہ دیرینہ بقائے باہمی برقرار رکھنے کے لیے عوامی حفظانِ صحت پر توجہ دینا بھی ضروری ہے خاص طور پر ان مقامات پر جہاں لوگوں کی آمد و رفت زیادہ ہوتی ہے۔ مکہ مکرمہ کی بلدیہ (میونسپلٹی) ان چوکوں اور راستوں پر باقاعدگی سے صفائی کا کام انجام دیتی ہے جہاں کبوتر جمع ہوتے ہیں۔بلدیاتی ٹیمیں عوامی مقامات کو دھوتی، باقی ماندہ دانہ ہٹاتی اور ماحول کو صاف ستھرا رکھتی ہیں تاکہ شہر کا حسن برقرار رہے اور عبادت گذاروں اور زائرین کے لیے آرام دہ ماحول یقینی ہو۔قدیم مؤرخین اور سیاحوں کے احوال سے لے کر آج کے زائرین کی تصاویر تک مکہ کے یہ کبوتر اس شہر کی دیرینہ روایات کی ایک زندہ علامت ہیں۔ نسل در نسل قائم ان پرندوں کی موجودگی اس مقدس شہر کی تاریخی یادوں اور آج کی متحرک زندگی کے درمیان ایک چھوٹا سا مگر منفرد تعلق قائم رکھے ہوئے ہے۔(بشکریہ:اردوالعربیہ)
Subscribe to Updates
Get the latest creative news from FooBar about art, design and business.
حرم پاک کے کبوتر (مکہ کے یہ کبوتر اس شہر کی دیرینہ روایات کی ایک زندہ علامت ہیں)
All Right Reserved © Vision Point PK 2026 . Managed by Vision Point

