Close Menu
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا
Facebook X (Twitter) Instagram
ہفتہ, اکتوبر 17
Facebook X (Twitter) Instagram
English
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا
Home»تازہ ترین»روس زیر قبضہ علاقوں کو برقرار رکھے، یوکرین 20 سال تک نیٹو میں شمولیت کا ارادہ ترک کردے: ٹرمپ کا جنگ بندی منصوبہ
تازہ ترین

روس زیر قبضہ علاقوں کو برقرار رکھے، یوکرین 20 سال تک نیٹو میں شمولیت کا ارادہ ترک کردے: ٹرمپ کا جنگ بندی منصوبہ

EditorBy Editorنومبر 9, 2024Updated:نومبر 9, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
Facebook Twitter Pinterest LinkedIn WhatsApp Reddit Tumblr Email
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

واشنگٹن : امریکا میں صدارتی انتخابات میں جیت حاصل کرنے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے بارہا روس اور یوکرین جنگ کے خاتمے کا وعدہ کیا ہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے بھی بات کی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے کچھ تفصیلات سامنے آنے کے بعد ایک مبینہ منصوبے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں جو جنگ کا رخ بدل سکتی ہیں۔ ٹرمپ کے قریبی لوگوں نے کہا کہ ان کے منصوبے میں جنگ کو روکنے کی کوشش میں روس اور یوکرین افواج کے درمیان 800 میل کے بفر زون کو نافذ کرنے کے لیے یورپی اور برطانوی فوجیوں کو بلانا شامل ہو سکتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوگا کہ روس یوکرین میں اپنے زیر قبضہ علاقوں کو برقرار رکھے گا اور کیف 20 سال کیلئے نیٹو میں شامل ہونے کے اپنے منصوبے کو الوداع کہہ سکتا ہے۔ یہ تفصیلات اس وقت سامنے آئیں جب زیلنسکی نے خبردار کیا کہ روس کو خوش کرنے کے لیے کوئی بھی امن معاہدہ یورپ کے لیے ‘خودکشی’ کے برابر ہوگا۔ حالانکہ یہ ٹرمپ کے زیر غور کئی منصوبوں میں سے ایک ہے۔ جنہوں نے کہا کہ وہ جنوری میں اقتدار سنبھالنے سے پہلے روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات شروع کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو انتخابی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ یوکرین اور روس کے ساتھ تعلقات کی بحالی سے متعلق ان کا بیان قابل توجہ ہے۔ پوتن نے کہا کہ روس کے ساتھ تعلقات بحال کرنے، یوکرین بحران کو ختم کرنے کی خواہش کے بارے میں جو کہا گیا، وہ کم از کم قابل توجہ ہے۔ گزشتہ ماہ زیڈی وینس نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے فوجی تعیناتی ختم کرکے جنگ کو روکنے اور دونوں طرف خود مختار علاقوں کے قیام اور یوکرین کو نیٹو سے باہر رکھنے کی بات کہی تھی۔

حالانکہ نئے پلان کو ایلون مسک کی منظوری پہلے ہی مل چکی ہے۔ جنہوں نے ٹرمپ کی جیت میں موثر کردار ادا کیا ہے۔ مسک نے ایکس پر کہا کہ ‘بے وقوفی بھرے قتل جلد ختم ہو جائیں گے۔ جنگ کے لیے تیار منافع خوروں کا وقت ختم ہو گیا ہے۔’ دریں اثنا کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا کہ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ وہ یوکرین کے تنازع کو جلد حل کر سکتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ 24 گھنٹے میں جنگ ختم کر سکتے ہیں۔

Ceasefire Nato Russia Trump Ukraine USA War
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Telegram Email
Editor

    Related Posts

    برطانوی فوج کے سربراہ کا جنگی خطرات سے متعلق انتباہ، عوام کو تیار رہنے کی ہدایت

    اکتوبر 17, 2026

    مکہ مسجد میں نازیبا حرکات پر بنگلادیشی مرد اور خاتون کو سزائے موت دے دی گئی

    اکتوبر 16, 2026

    یوکرینی صدر زیلنسکی کی امریکی روسی ڈیزل معاہدے پر تنقید، یورپ سے 70 ارب یورو طلب

    اکتوبر 16, 2026

    Comments are closed.

    Facebook X (Twitter) Pinterest Vimeo WhatsApp TikTok Instagram

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.