اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے سائبر سیکورٹی وزرا کونسل کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ یہ منظوری وزرائے خارجہ کونسل کے 52ویں اجلاس میں دی گئی۔ اس سلسلے میں سعودی عرب نے تجاویز پیش کی تھیں۔
کونسل کا جنرل سیکرٹریٹ اور ایگزیکٹو آفس سعودی دارالحکومت ریاض میں قائم ہوگا۔ العربیہ کے مطابق، اس اقدام کا مقصد رکن ممالک میں سائبر سکیورٹی کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کے ذریعے قومی سلامتی اور اہم قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششیں بھی کی جائیں گی۔
نئی کونسل او آئی سی کے تحت ایک ذیلی ادارے کے طور پر کام کرے گی۔ یہ تنظیم کے دائرہ کار میں سائبر سکیورٹی سے متعلق امور کا احاطہ کرے گی۔
کونسل رکن ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دے گی۔ اس کے علاوہ سائبر سکیورٹی سے متعلق بین الاقوامی تنظیموں میں رکن ممالک کے مفادات کے تحفظ کی کوششوں میں ہم آہنگی پیدا کی جائے گی۔
کونسل میں رکن ممالک کے سائبر سکیورٹی سے متعلق ادارے شامل ہوں گے۔ اس کے جنرل سیکرٹریٹ اور ایگزیکٹو آفس کی سربراہی میزبان ملک سعودی عرب کے نمائندے کریں گے۔
سعودی نیشنل سائبر سکیورٹی اتھارٹی کے گورنر انجینئر ماجد بن محمد المزید نے اس فیصلے کی اہمیت واضح کی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر سائبر خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ان خطرات سے ممالک کے اہم مفادات اور حساس بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ترجیحی شعبے اور حکومتی خدمات بھی ان خطرات کی زد میں آ سکتے ہیں۔
انجینئر ماجد کے مطابق، یہ چیلنجز او آئی سی کے رکن ممالک میں سائبر سکیورٹی مضبوط بنانے کی ضرورت اجاگر کرتے ہیں۔ انہوں نے سائبر سکیورٹی کو معاشی ترقی اور سماجی خوشحالی کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سائبر سکیورٹی بین الاقوامی امن و امان کے تحفظ کے نظام کا بھی ایک اہم ستون ہے۔
انجینئر ماجد بن محمد المزید نے سعودی عرب میں سائبر سکیورٹی کے شعبے کو قیادت کی سرپرستی پر سراہا۔ انہوں نے وزیر مملکت اور رکن کابینہ ڈاکٹر مساعد بن محمد العیبان کی سربراہی میں اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی نگرانی کو بھی قابلِ قدر قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ کونسل کے ہیڈکوارٹرز کے لیے ریاض کا انتخاب سعودی عرب کے کردار پر اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق، مملکت بین الاقوامی اقدامات اور منصوبوں کی قیادت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
انجینئر ماجد نے سائبر اسپیس میں استحکام کے فروغ پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر ممالک کے درمیان تعاون کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔


