ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کے لیے بل پارلیمنٹ میں پیش کر دیا ہے۔ اب ترک پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں اس بل پر بحث متوقع ہے۔
معاہدے کے تحت متعلقہ فریق دفاعی صنعت اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کریں گے۔ اس پیش رفت کا مقصد دفاعی تعاون کے لیے معاہدے کو پارلیمانی عمل سے گزارنا ہے۔
ترک آئین کے تحت بیرونِ ملک فوج تعینات کرنے کے لیے پارلیمنٹ کی علیحدہ اجازت لازمی ہے۔ یہ شرط بین الاقوامی معاہدے کی موجودگی میں بھی لاگو ہوتی ہے۔
اس لیے معاہدے کی توثیق اور بیرونِ ملک فوجی تعیناتی کی اجازت الگ آئینی و پارلیمانی معاملات ہیں۔ معاہدے کی توثیق بذاتِ خود بیرونِ ملک فوج بھیجنے کی خودکار اجازت نہیں بنتی۔
خارجہ امور کمیٹی میں بحث کے بعد بل پر مزید پارلیمانی کارروائی متوقع ہے۔ تاہم، فراہم کردہ معلومات میں بحث کی تاریخ یا توثیق کے حتمی مرحلے سے متعلق تفصیلات شامل نہیں۔
معاہدے کے تحت دفاعی صنعت اور سلامتی میں تعاون کی نوعیت جاننے کے لیے اس کی مکمل شرائط اور متعلقہ حکام کے اعلانات اہم ہوں گے۔


