Close Menu
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا

Subscribe to Updates

Get the latest creative news from FooBar about art, design and business.

What's Hot

پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کمزور ہونے کا خدشہ، آئی ایم ایف کا انتباہ

اکتوبر 23, 2026

اسحاق ڈار چار ملکی وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کیلئے استنبول روانہ

اکتوبر 23, 2026

محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا میں کروڑوں کی مالی بے ضابطگیاں سامنے آگئیں

اکتوبر 23, 2026
Facebook X (Twitter) Instagram
جمعہ, اکتوبر 23
Facebook X (Twitter) Instagram
English
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا
Home»پاکستان»باغوں کا شہر کنکریٹ کا جنگل بن گیا، لاہور کا گرین ایریا خطرناک حد تک سکڑ گیا
پاکستان

باغوں کا شہر کنکریٹ کا جنگل بن گیا، لاہور کا گرین ایریا خطرناک حد تک سکڑ گیا

EditorBy Editorاکتوبر 23, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
Facebook Twitter Pinterest LinkedIn WhatsApp Reddit Tumblr Email
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

باغوں کا شہر، کنکریٹ کا جنگل بن گیا۔ لاہور کا گرین ایریا خطرناک حد تک سکڑ گیا، درخت کم ہوئے تو درجہ حرارت، آلودگی اور شہری مسائل بڑھنے لگے، پرندوں کی اقسام بھی کم ہوگئیں۔

باغوں کا شہر لاہور لارنس گارڈن سے شالامار باغ ، جیلانی پارک، گلشنِ اقبال سرسبز باغات اور درخت اس شہر کی پہچان ہیں لیکن گرین ایریا خطرناک حد تک سکڑ گیا۔

اربن یونٹ کی اسٹڈی کے مطابق 2007 سے 2015 کے دوران درختوں میں 72 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ 2019 تک لاہور کا تقریباً 40 فیصد رقبہ تعمیرات کی نذر ہوچکا تھا اور اب صورتحال مزید گھمبیر ہے۔

گھنا سبزہ 35 سے سکڑ کر 19 مربع کلومیٹر رہ گیا، جبکہ درمیانہ سبزہ بھی 803 سے کم ہوکر 690 مربع کلومیٹر تک محدود ہوگیا، شہر کے کل رقبے میں پارکس کا حصہ صرف 1.4 فیصد ہے۔۔ جہاں ترجیح چھوٹے درختوں کو دی جاتی ہے۔

فیروزپور روڈ ہو یا جی ٹی روڈ، سگیاں بائی پاس ہو یا رائیونڈ روڈ کھیتوں کی جگہ سڑکیں، عمارتیں اور کمرشل زونز پھیل رہے ہیں مگر اس ترقی کی قیمت لاہور کا قدرتی ماحول ادا کر رہا ہے۔

عالمی معیار کے مطابق ہر 1ہزار افراد کے لیے 0.9 ہیکٹر گرین اسپیس درکار ہے مگر لاہور میں یہ شرح صرف 0.2 ہیکٹر ہے یعنی تین گنا کم۔ شہر کی 65 فیصد آبادی گرین اسپیس سے400 میٹر سے زیادہ فاصلے پر ہےجبکہ 35 فیصد شہری اس سہولت سے محروم ہیں۔

ماہرین کے مطابق اب بھی وقت ہے مگر اس کے لیے شجرکاری، گرین اسپیس کا تحفظ اور مؤثر ماحولیاتی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ باغوں کے شہر کو بچانا ہے تو شجرکاری ضروری ہے، ورنہ لاہور کی سبز پہچان مٹتی جائے گی اور آنے والی نسلوں کے لیے صاف ہوا میں سانس لینا مزید مشکل ہوجائے گا۔

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Telegram Email
Editor

    Related Posts

    پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کمزور ہونے کا خدشہ، آئی ایم ایف کا انتباہ

    اکتوبر 23, 2026

    اسحاق ڈار چار ملکی وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کیلئے استنبول روانہ

    اکتوبر 23, 2026

    محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا میں کروڑوں کی مالی بے ضابطگیاں سامنے آگئیں

    اکتوبر 23, 2026

    Comments are closed.

    Latest Posts

    مکہ دفاعی معاہدہ: عالمِ اسلام کے نئے دفاعی دور کا آغاز، اسرائیل اور بھارت میں بھونچال

    اگست 7, 2026

    قوم کی اصل دولت

    اپریل 8, 2026

    انفارمیشن وار: خاموش محاذ، خطرناک نتائج

    فروری 24, 2026

    قوم پرستی یا قوم فروشی؟ ایک سنجیدہ سوال

    فروری 17, 2026

    عوامی ایکشن کمیٹی: ایک عوامی تحریک یا نظریاتی یرغمالی؟

    فروری 11, 2026

    رائزنگ اسٹار ایشیا کپ میں پاکستان شاہینز نے بھارت کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی

    نومبر 16, 2025
    Facebook X (Twitter) Pinterest Vimeo WhatsApp TikTok Instagram

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.