میر رضاقتل کیس میں سندھ حکومت نےجوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد شروع کر دیا، تحقیقات کےلیےمشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جےآئی ٹی)تشکیل دےدی گئی،جس کی سربراہی ڈی آئی جی عرفان علی بلوچ کریں گے۔
مراسلے کےمطابق جےآئی ٹی میں آئی ایس آئی، آئی بی،رینجرز اورنیشنل سائبرکرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کےسینئر نمائندےشامل ہوں گے،سندھ حکومت نےمتعلقہ اداروں کو خط لکھ کر گریڈ 18 یا اس سے اوپر کے افسران نامزد کرنے کی درخواست کی ہے۔
میررضا علی کے قتل کامقدمہ کراچی کے تھانہ فیروزآباد میں درج ہے،ایف آئی آر نمبر 795/2026 میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 365، 302 اور 201 شامل کی گئی ہیں۔
دوسری جانب جوڈیشل کمیشن رپورٹ میں نامزد پولیس افسران اوراہلکاروں کےخلاف کارروائی کے معاملے پر محکمہ داخلہ سندھ نے آئی جی سندھ کو خط ارسال کر دیا ہے،خط کے ساتھ جوڈیشل کمیشن کے مشاہدات اور کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی سفارشات بھی بھجوا دی گئی ہیں۔
حکومت سندھ نےمیررضا علی کیس کی مزید تحقیقات کےلیےوفاقی وزارت داخلہ سے ایف آئی اے کے گریڈ 20 یا اس سے اوپر کے افسرکی نامزدگی کی درخواست بھی کی ہے،مجوزہ کمیٹی میں ڈی آئی جی عرفان علی بلوچ اور ڈی آئی جی نعیم احمد شیخ کو شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ادھر ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار علی لاڑک پر مشتمل ایک رکنی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے، جو جوڈیشل کمیشن رپورٹ میں نامزد پولیس افسران اور اہلکاروں کے کردار کا جائزہ لے گی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈی آئی جی ویسٹ عرفان علی بلوچ کمیٹی کی معاونت کریں گے۔
کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہےکہ وہ نامزد افسران اور اہلکاروں کی صلاحیتوں،کارکردگی اور مجموعی پولیسنگ کا جائزہ لے،جائے وقوع کو جلائے جانے کےمعاملے میں انسپکٹر غوث کےکردار کی مزید تحقیقات کرے اور اپنی سفارشات پر مشتمل رپورٹ آئی جی سندھ کو پیش کرے۔
مزید برآں،جوڈیشل کمیشن کی سفارش پرکابینہ کی ذیلی کمیٹی نے ڈاکٹر اسامہ شیخ کو عہدے سے ہٹانےاوردو سالہ تربیت کی تجویز بھی دی ہے،اس حوالے سے محکمہ داخلہ سندھ نے سیکریٹری صحت کو خط ارسال کر دیا ہے۔


