بھارتی میڈیا کے مطابق، بھگونت مان نے مشرقی پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اس دعوت کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کانفرنس کے منتظمین نے انہیں لاہور آنے کی دعوت دی ہے۔
بھگونت مان کے مطابق، پنجابی شاعر بابا بشیر حسین ناظمی نے انہیں کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ منتظمین نے ان کی میزبانی کی پیشکش بھی کی ہے۔
وزیراعلیٰ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ بھارتی حکومت انہیں فرانس اور جاپان جیسے ممالک کے دوروں کی اجازت نہیں دیتی۔ ایسے میں پاکستان جانے کی اجازت ملنے کے امکانات پر بھی سوال ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں پنجابوں کی ثقافت مشترک ہے۔ دونوں خطوں کے شاعر بھی لاہور جائیں گے۔ اسی لیے وہ خود بھی کانفرنس میں شرکت کرنا چاہتے ہیں۔
اجلاس کے دوران بھارتی پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کلتار سنگھ سندھواں نے بھی اس معاملے پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ کو پاکستان جانے کی اجازت مل جائے تو وہ انہیں ارکان اسمبلی کے ہمراہ لے جائیں۔
اس پر بھگونت مان نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اسمبلی کے تمام ارکان کرتارپور صاحب جائیں اور وہاں حاضری دیں۔ ان کے مطابق، اس میں اسپیکر، حکومتی ارکان اور اپوزیشن کے ارکان بھی شامل ہوں۔
تاہم، انہوں نے اس دورے کے لیے کرتارپور راہداری کھولنے کی شرط رکھی۔
لاہور میں عالمی پنجابی کانفرنس 27 سے 29 نومبر تک منعقد ہوگی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، اس کانفرنس کا اہتمام تین ادارے مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔
ان میں پنجابی پرچار آرگنائزیشن، پنجابی لہر اور پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج، آرٹ اینڈ کلچر شامل ہیں۔ کانفرنس میں نو ممالک سے مہمانوں کی شرکت متوقع ہے۔
بھگونت مان کی کانفرنس میں شرکت بھارتی حکومت کی اجازت سے مشروط ہے۔ فی الحال ان کے دورۂ پاکستان کی حتمی منظوری کے بارے میں کوئی تصدیق فراہم نہیں کی گئی۔


