ٹرمپ کا یوکرین کے لیے فوجی امداد روکنے کا حکم، زیلنسکی پر جلد امن معاہدے کا دباؤ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کو دی جانے والی فوجی امداد فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دے دیا، جس سے امریکہ کی یوکرین پالیسی میں ایک بڑی تزویراتی تبدیلی کا عندیہ ملتا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد کیف اور ماسکو کے درمیان امن مذاکرات کو تیز کرنا بتایا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق، یہ فیصلہ اوول آفس میں ایک گرما گرم اجلاس کے بعد کیا گیا، جہاں ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے مایوسی کا اظہار کیا۔ ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک دی جانے والی 180 بلین ڈالر کی امریکی فوجی امداد کے باوجود یوکرین نے خاطر خواہ نتائج نہیں دکھائے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق، یہ اقدام یوکرین کو سفارتی مذاکرات کی طرف دھکیلنے کے لیے کیا گیا ہے۔ کہ”صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ مسلسل فوجی امداد صرف اسی صورت میں جاری رکھی جا سکتی ہے جب اس کا واضح مقصد امن کا قیام ہو۔ انتظامیہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ امریکی مدد تنازع کو طول دینے کے بجائے اس کے حل میں معاون ثابت ہو۔”

حکومت کا کہنا ہے کہ جب تک یوکرین روس کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوتا، یہ معطلی برقرار رہے گی۔

امریکی پالیسی میں تبدیلی پر ردعمل

ٹرمپ کے اس فیصلے پر امریکہ اور بین الاقوامی برادری میں مخلوط ردعمل سامنے آیا ہے:
✅ ریپبلکن رہنماؤں میں تقسیم: کچھ قانون ساز فوجی امداد کے ازسرنو جائزے کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ دیگر اسے یوکرین کے دفاع کے لیے خطرہ سمجھ رہے ہیں۔
✅ یورپی اتحادیوں کا دباؤ: فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ یوکرین کی حمایت جاری رکھے، بصورت دیگر خطے میں طاقت کا توازن روس کے حق میں جا سکتا ہے۔
✅ کریملن کا محتاط ردعمل: روسی حکام نے ٹرمپ کے فیصلے کو "مثبت اشارہ” قرار دیا، لیکن اس کا مطلب فوری طور پر امن معاہدے کی ضمانت نہیں سمجھا جا رہا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے