پاکستان سے گرفتار افغان شدت پسند شریف اللہ امریکی عدالت میں پیش

پاکستان اور افغانستان کی سرحد سے گرفتار کیے گئے مبینہ داعش کمانڈر محمد شریف اللہ کو امریکی ریاست ورجینیا کی وفاقی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔ امریکی حکام نے ان پر دہشت گردی کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں، جن میں امریکی شہریوں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور کابل ایئرپورٹ حملے میں ملوث ہونے کے الزامات شامل ہیں۔

گرفتاری اور امریکہ حوالگی

محمد شریف اللہ کو چند روز قبل پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی فراہم کردہ اطلاعات پر افغانستان-پاکستان سرحد سے گرفتار کیا تھا۔ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں امریکہ کے حوالے کر دیا گیا، جہاں بدھ کی صبح ورجینیا پہنچنے پر انہیں وفاقی تحویل میں لے لیا گیا۔

عدالتی کارروائی اور ممکنہ سزا

ورجینیا کی عدالت میں شریف اللہ کو نیلے رنگ کے قیدی لباس میں پیش کیا گیا، جہاں جج نے انہیں عدالتی تحویل میں رکھنے کا حکم دیا۔ کیس کی ابتدائی سماعت 10 مارچ کو ہوگی، اور اگر وہ تمام الزامات میں مجرم ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں عمر قید یا سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔

کابل ایئرپورٹ حملے میں مبینہ کردار

امریکی حکام شریف اللہ کو 26 اگست 2021 کو کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے خوفناک خودکش دھماکے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتے ہیں۔ اس حملے میں 13 امریکی فوجیوں سمیت 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جب کہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ امریکی تحقیقاتی اداروں کے مطابق شریف اللہ نے اس حملے کی منصوبہ بندی اور معاونت کی تھی۔

ٹرمپ کا پاکستان کا شکریہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شریف اللہ کی گرفتاری پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، "ہم پاکستانی حکومت کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اس خطرناک دہشت گرد کو حراست میں لینے اور انصاف کے کٹہرے میں لانے میں مدد فراہم کی۔ یہ ہماری انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں ایک اہم کامیابی ہے۔”

داعش خراسان سے تعلق

ماہرین کے مطابق محمد شریف اللہ داعش خراسان کا سینئر آپریشنل کمانڈر تھا۔ انہوں نے 2016 میں داعش میں شمولیت اختیار کی، تاہم 2019 میں وہ افغانستان کی ایک جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ 2021 کے کابل حملے کے بعد وہ مسلسل روپوش تھے اور امریکی اور اتحادی افواج کے ریڈار پر تھے۔

پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے آپریشنز

پاکستانی سکیورٹی حکام کے مطابق حالیہ مہینوں میں داعش کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشنز کیے گئے ہیں، جن میں خیبر، باجوڑ، کرم اور پشاور کے علاقوں میں متعدد کمانڈرز کو گرفتار کیا گیا۔ شریف اللہ کی گرفتاری کو ان آپریشنز کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

شریف اللہ کی گرفتاری اور امریکہ حوالگی پاکستان اور امریکہ کے درمیان انسداد دہشت گردی تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔ اس مقدمے کو دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی جنگ میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر شریف اللہ پر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو یہ کابل حملے کے متاثرین کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہوگی اور خطے میں دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں کو مزید تقویت ملے گی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے